باتو ملِک چاول کو تھوڑا ذائقہ دار بنانے کے لیے لال مرچ اور نمک پیس رہی تھیں۔ انہوں نے کہا، ’’پانتا بھات [بچے ہوئے چاول کو رات بھر پانی میں چھوڑنے کے بعد اس میں خمیر اٹھتا ہے، اسے ہی پانتا بھات کہتے ہیں] کے علاوہ ہمارے پاس کھانے کے لیے اور ہے ہی کیا؟‘‘
شام ہو چکی ہے۔ باتو اور ان کے شوہر جوگین ملِک ابھی ابھی پاس کے جنگل سے لوٹے ہیں۔ اس آدیواسی بستی کے دیگر کنبوں کی طرح باتو اور جوگین بھی دن بھر جنگل میں سال (شوریا روبسٹا) کے پتّے اکٹھا کرتے ہیں، جنہیں ہفتہ واری بازار میں فروخت کیا جاتا ہے۔
ان کا گھر مغربی بنگال کے جھاڑگرام ضلع کے بیناشولی گاؤں میں ہے، جہاں کی اکثریت سبر آدیواسیوں (مغربی بنگال میں ’سوَر‘ کے طور پر درج) پر مشتمل ہے۔ اس آدیواسی برادری کا شمار ملک کے سب سے غریب اور پس ماندہ طبقوں میں ہوتا ہے، جو بھکمری اور سوء تغذیہ کا شکار ہیں۔
میں گزشتہ کئی برسوں سے سبر آدیواسیوں کی خیر خبر لینے کے لیے اس علاقہ میں آتا رہا ہوں۔ برطانوی دورِ حکومت میں انہیں ’مجرم پیشہ قبیلہ‘ کا درجہ دیا گیا تھا، جسے ۱۹۵۲ میں ختم کر دیا گیا۔ لیکن آج بھی اس برادری کے زیادہ تر لوگوں کے پاس اپنی زمین نہیں ہے اور گزر بسر کے لیے یہ لوگ جنگلات پر منحصر ہیں۔ پڑھیں: بھکمری کے شکار مغربی بنگال کے سبر آدیواسی
جب بھی میں یہاں آتا ہوں، تو دیکھتا ہوں کہ یہاں کے آدیواسیوں کی زندگیاں ویسی کی ویسی ہیں۔ اتنے برسوں، دہائیوں میں ان کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ بھوک مٹانے کے لیے یہاں کے لوگ مہوا (مدھوکا لانگی فولیا) سے بنی مقامی شراب پیتے ہیں۔ شراب یہاں کھانے کا متبادل بن گئی ہے، کیوں کہ اسے پینے کے بعد پیٹ بھرا ہوا سا محسوس ہوتا ہے۔ شراب نوشی کا مسئلہ بڑھنے کی وجہ سے تقریباً ہر گھر سوء تغذیہ اور خون کی کمی کے مسئلہ میں گرفتار ہے۔























