’’میں یہیں پیدا ہوا۔ انہی جنگلوں، اسی ڈونگر [پہاڑی] میں گھومتے پھرتے بڑا ہوا ہوں،‘‘ ییما سونگل جب اس رپورٹر کو اپنے گاؤں سے متعارف کراتے ہیں تو ان کی مسکراہٹ ان کے چہرے کا ساتھ نہیں چھوڑتی ہے۔ سرخ مٹی کی ٹائلوں والی چھتوں کے مکانات گھنے اور سر سبز سہیادری کی پہاڑیوں سے گھرے ہوئے ہیں، جو فطرت اور انسانی آباد کاری کا پر سکون نظارہ پیش کرتے ہیں۔ انہیں اس بات کا علم نہیں ہے، لیکن یہ حیاتیاتی تنوع کے دنیا کے آٹھ ’’سب سے اہم مقامات‘‘ میں سے ایک ہے۔
لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ان میں سے ۲۸۰ ہیکٹیئر جنگل جلد ہی غرقاب ہو سکتا ہے۔
’’ہمارا کھیت اس ڈونگر کے پیچھے ہے،‘‘ ییما اپنے گھر کے باہری صحن میں کھڑے ہوکر ایک پہاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں۔ ان کا گھر مہاراشٹر کی لادے واڑی بستی میں واقع ہے (جو کالبھونڈے گرام پنچایت کے تحت آتی ہے)۔ اپنے چھوٹے سے کھیت میں ورئی (باجرے کی ایک قسم) کاشت کرنے کے لیے ییما اور ان کی بیوی سولی (دونوں کی عمر تقریباً ۷۰ سال ہے) کو ایک گھنٹہ کا سفر طے کرنا ہوتا ہے – ’’یہ بارش والی فصل ہے۔ اس سے ہمیں ۵-۶ بوریوں [کوئنٹل] کی اپج ملتی ہے۔‘‘ یہ کل پیداوار ہے جو ایک ایکڑ سے کم رقبہ والے اس کھیت سے حاصل ہوتی ہے، اور جس پر ۱۵ افراد – ییِما، سولی، ان کے چار بیٹوں، تین بہوؤں اور چھ پوتے پوتیوں پر مشتمل کنبے کا ایک سال بعد آنے والی اگلی فصل تک گزارہ ہوتا ہے۔ اس کنبے کا جس قدر انحصار زمین پر ہے اتنا ہی انحصار جنگل پر بھی ہے۔
’’جنگل ہمیں سہارا دیتا ہے،‘‘ وہ مزید کہتے ہیں۔ ’’پھل، ران کند [جنگلی قند]، سبزیاں، اور سردی، بخار، اور گھٹنوں کے درد کے علاج کے لیے جڑی بوٹیاں بھی یہاں مل جاتی ہیں۔‘‘ تھانے ضلع کے شاہ پور تعلقہ میں مقیم ییما اور درجہ فہرست قبائل کے طور پر درج ان کی م ٹھاکر برادری سے تعلق رکھنے والے ۹۷ خاندانوں کی بقا کے لیے جنگل ضروری ہے۔ ’’ہم درخت نہیں کاٹتے۔ ہم ایندھن کے لیے گری ہوئی شاخوں کو اکٹھا کرتے ہیں۔ ہم مٹی، اینٹوں اور جنگل کی لکڑی سے پکے گھر بناتے ہیں، جو کئی دہائیوں تک سلامت رہتے ہیں۔‘‘




















