’’ہماری پوری زندگی حکومت اور دوسرے شہریوں کو کاغذات دکھانے اور یہ ثابت کرنے میں گزر گئی کہ یہاں آباد دوسرے لوگوں کی طرح ہم بھی اسی ملک کے شہری ہیں۔‘‘
بحرالاسلام کباڑ چھانٹنے کے اپنے کام میں مصروف ہیں۔ وہ چُنی گئی ردّیوں کا الگ الگ ڈھیر بنا رہے ہیں – جیسے پلاسٹک کی بوتلوں کا ڈھیر، گیلے کچروں کا ڈھیر، کارڈ بورڈ اور تھرمو کول کا ڈھیر، اور ان ڈھیروں کو پلاسٹک کی الگ الگ بوریوں میں بھرتے جا رہے ہیں۔ تقریباً ۳۵ سال کے بحرل اُن ۱۳ مہاجر خاندانوں میں سے ایک کے رکن ہیں جو آسام کے بارپیٹا، بونگئی گاؤں اور گوال پاڑہ سے آ کر یہاں رہ رہے ہیں۔ یہ خاندان ہریانہ کے اساور پور شہر کے خالی پلاٹ پر ایک ساتھ رہتے ہیں، اور اپنے گزارہ کے لیے کچرا بیننے اور انہیں چھانٹنے کا کام کرتے ہیں۔
’’لوگ ہمیشہ ہماری پہچان پر سوال کھڑے کرتے ہیں۔ آسام اور یہاں – دونوں جگہ ایک ہی حالت ہے۔‘‘ بحرل بتاتے ہیں کہ سرکاری ملازمین ان کی جھگیوں میں ان کی شناخت سے متعلق کاغذات کی جانچ کرنے کے لیے اکثر آ دھمکتے ہیں۔ ’’جب ہم ردّی چننے نکلتے ہیں تو لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ ہم کہاں سے آئے ہیں۔ آسام کا نام سن کر انہیں لگتا ہے کہ ہم بنگلہ دیشی ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ پولیس ان سے اکثر آسام سے پولیس جانچ کرانے کے لیے کہتی ہے، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ان کا کوئی مجرمانہ پس منظر تو نہیں ہے۔ ’’ہم انہیں یقین دلانا چاہتے ہیں، لیکن ہماری باتوں کی ان کے لیے کوئی اہمیت نہیں ہے،‘‘ آسام میں چلائی جا رہی قومی شہری رجسٹر (این آر سی) مہم کے بارے میں معلومات رکھنے والے بحرل کہتے ہیں کہ چونکہ ان کے پاس زمین پر مالکانہ حق سے متعلق کاغذات ہیں، اس لیے انہیں اس سے فکرمند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
اسی پلاٹ پر رہنے والے دو بھائی ریاض اور نور اسلام بتاتے ہیں کہ انہوں نے آسام اس لیے چھوڑ دیا کیوں کہ برہم پتر کے نزدیک ہونے کی وجہ سے ان کے کھیت ہمیشہ سیلاب کی چپیٹ میں آ جاتے تھے، ایسے میں ان کے لیے کھیتی پر منحصر رہنا ممکن نہیں تھا۔ اُدھر بارپیٹا میں ان کے ۸۰۰ مربع فٹ کی زمین پر ان کے والدین ہری مرچ، ٹماٹر اور دوسری سبزیاں اُگاتے ہیں۔ ’’بہت زیادہ بارش ہونے پر ندی کا پانی ہمارے گھروں میں داخل ہو جاتا ہے، اور ہمیں اپنی جگہ چھوڑنی پڑتی ہے۔ ہم ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے کے لیے کیلا کے تنوں کا استعمال کرتے ہیں،‘‘ ان کے بھائی کہتے ہیں۔ نیشنل رموٹ سینسنگ سنٹر (این آر ایس سی) کے مطابق، سال ۱۹۹۸ سے ۲۰۱۵ کے درمیان آسام کا تقریباً ۷۵ء۲۸ فیصد علاقہ سیلاب سے بری طرح متاثر رہا ہے۔














