نوٹ: یہ ہندوستان کے دیہی علاقوں میں صحت کی صورتحال سے متعلق سیریز کا پہلا حصہ ہے۔
زراعت پر منحصر ایک چھوٹے سے گاؤں، ملاجپور میں ۱۷ سال کی سَوی دُھروے اور ۱۶ سال کی آشا کورکو (دونوں کے نام بدل دیے گئے ہیں) کے درمیان ایک انوکھی دوستی ہو گئی ہے۔ دونوں کی ملاقات اسی سال یہاں مندر میں لگے ایک میلہ میں ہوئی تھی، جہاں ان کے گھر والے انہیں مقامی جھاڑ پھونک کی رسم کے لیے لے کر آئے تھے۔ دونوں نو عمر لڑکیوں اور ان کے رشتہ داروں کا ماننا ہے کہ وہ کسی بد روح کے زیر اثر ہیں۔
سوی اپنی حالت بیان کرتے ہوئے کہتی ہے، ’’ایسا لگتا تھا جیسے کوئی مجھے میرے کمرے میں ادھر ادھر پھینک رہا ہو اور مجھے بیہوشی کے دورے پڑتے تھے۔ درد سے میرا جسم اینٹھ جاتا تھا اور ہوش آنے پر مجھے کچھ بھی یاد نہیں رہتا تھا،‘‘ سوی کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی آشا بول پڑتی ہے، ’’میرے ساتھ بھی یہی ہوتا تھا۔ مجھے بھی کچھ یاد نہیں رہتا تھا۔‘‘
دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنس پڑتی ہیں – بغیر کسی خاص وجہ کے، ہر بات پر۔ یہ وہی شرارتی طاقت ہے، جو اکثر ان دونوں سہیلیوں میں دکھائی دیتی ہے۔ دونوں لڑکیاں تقریباً ایک مہینہ سے مندر کے احاطہ میں رہ رہی ہیں۔ اس دوران وہ ایک دوسرے سے الگ نہ ہونے والی دوست بن گئی ہیں – آرتی (پوجا) کے وقت کندھے سے کندھا ملا کر بیٹھنا، گربھ گرہ (پوجا کی مرکزی جگہ) کی پریکرما (طواف) کرتے ہوئے آپس میں مذاق کرنا، اور ایک دوسرے کی باتوں کے درمیان بولتے ہوئے لگاتار گفتگو کرنا۔
سوی، آشا کی طرف پیار سے دیکھتے ہوئے کہتی ہے، ’’اس پر جلدی اثر ہو جاتا ہے…‘‘
’’– میں اسے ٹھیک سے سمجھا نہیں سکتی –‘‘
’’– آرتی کے وقت آپ خود دیکھ لیں گے –‘‘
’’– لیکن اب میں پہلے سے کافی بہتر ہوں –‘‘ آشا اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہتی ہے، جس سے لگتا ہے کہ مندر میں گزارے گئے اس مہینہ سے اس کی حالت کچھ بہتر ہوئی ہے۔
ملاجپور کا ’گھوسٹ فیئر‘ جسے مقامی لوگ بھوتوں کا میلہ کہتے ہیں، صدیوں پرانی سالانہ تقریب ہے۔ یہ میلہ ماگھ پورنیما (جنوری-فروری کے دوران پورے چاند کا دن) سے شروع ہو کر بسنت پنچمی (موسم بہار کی آمد) تک چلتا ہے۔ بیتول ضلع کے چیچولی بلاک میں لگنے والا یہ میلہ گرو صاحب بابا یا دیوجی مہاراج نام کے سنت (سادھو) کی سمادھی (مزار) کے آس پاس لگتا ہے۔ مانا جاتا ہے کہ ان کے پاس ایسی روحانی طاقتیں تھیں جن سے وہ ’بد روحوں کے سایہ‘ سے متاثر لوگوں کو ٹھیک کر دیتے تھے۔ یہاں کے دیہی باشندوں کا عقیدہ ہے کہ مندر کے احاطہ میں موجود برگد کے درختوں کی پتّیوں میں بد روحیں پھنس جاتی ہیں۔ اس میلہ میں مدھیہ پردیش کے ساتھ ساتھ پڑوسی ریاستوں – چھتیس گڑھ اور راجستھان سے بھی ہزاروں عقیدت مند اور زائرین پہنچتے ہیں۔












