پانی پینے کے لیے باہر گیا اور نل کے سامنے جھکا، تو انہوں نے میرے سر پر وار کیا، جس سے میری کھوپڑی ٹوٹ گئی۔ مجھے فوراً اسپتال لے جایا گیبزرگ مجاہد آزادی نے ہمیں بتایا، ’’ہم خیمہ کے اندر بیٹھے تھے، انہوں نے اسے پھاڑ کر گرا دیا۔ ہم تب بھی بیٹھے رہے۔ انہوں نے ہمارے اوپر پانی پھینکا۔ انہوں نے زمین گیلی کر دی، تاکہ ہمیں وہاں بیٹھنے میں دشواری ہو۔ پھر بھی ہم بیٹھے رہے۔ اس کے بعد، جب میں تھوڑا‘
باجی محمد ہندوستان کے آخری باحیات مجاہدینِ آزادی میں سے ایک ہیں – ملک گیر سطح پر تسلیم شدہ اُن چار یا پانچ مجاہدینِ آزادی میں سے ایک، جو اوڈیشہ کے کوراپٹ علاقے میں ابھی بھی زندہ ہیں۔ وہ سال ۱۹۴۲ کے برطانوی مظالم کی بات نہیں کر رہے ہیں۔ (حالانکہ ان کے پاس اس کے بارے میں بھی بتانے کے لیے بہت کچھ موجود ہے۔) بلکہ وہ نصف صدی کے بعد، سال ۱۹۹۲ میں بابری مسجد کو توڑے جانے کے دوران اپنے اوپر ہوئے حملے کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ ’’میں وہاں ۱۰۰ رکنی امن ٹیم کے ایک حصہ کے طور پر موجود تھا۔‘‘ لیکن اس ٹیم کو بھی نہیں بخشا گیا۔ زندگی کے ۷۵ سال پورے کر چکے بزرگ گاندھی وادی مجاہد، اپنے سر کے زخم کی وجہ سے ۱۰ دنوں تک اسپتال میں اور ایک مہینہ تک وارانسی کے ایک آشرم میں پڑے رہے۔
وہ جب اپنی کہانی بیان کر رہے ہیں، تو ان کے چہرے پر غصے کی ذرا بھی آنچ نہیں ہے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یا بجرنگ دَل کے خلاف بھی نفرت کا کوئی جذبہ ان کے اندر نہیں ہے، جنہوں نے ان کے اوپر حملہ کیا تھا۔ وہ ایک شریف بزرگ آدمی ہیں، جو ہمیشہ مسکراتے رہتے ہیں۔ وہ گاندھی کے پکّے بھکت (پیروکار) ہیں۔ وہ ایک ایسے مسلمان ہیں، جو نبرنگ پور میں گئوکشی مخالف لیگ کی قیادت کر رہے ہیں۔ ’’حملہ کے بعد بیجو پٹنائک میرے گھر آئے اور مجھے کھری کھوٹی سنائی۔ وہ اس بات کو لیکر فکرمند تھے کہ میں اِس عمر میں بھی پرامن احتجاج میں سرگرم ہوں۔ پہلے بھی، جب میں نے ۱۲ سالوں تک مجاہدِین آزادی کو ملنے والا پنشن قبول نہیں کیا تھا، تو انھوں نے مجھے ڈانٹ پلائی تھی۔‘‘
باجی محمد ایک ختم ہوتے قبیلہ کی سنہری یاد جیسے ہیں۔ ہندوستان کے بے شمار دیہی باشندوں نے ملک کی آزادی کے لیے قربانی دی ہے۔ لیکن، جو نسل ملک کو یہاں تک لے آئی، وہ دھیرے دھیرے ختم ہو رہی ہے، ان میں سے زیادہ تر ۸۰ یا ۹۰ کی عمر پار کر چکے ہیں۔ باجی کی عمر ۹۰ سال کے آس پاس ہے۔
’’میں ۱۹۳۰ کی دہائی میں اسکول میں تھا، لیکن میٹرک سے آگے نہیں پڑھ سکا۔ میرے گرو سدا شیو ترپاٹھی تھے، جو بعد میں اوڈیشہ کے وزیر اعلیٰ بنے۔ میں کانگریس پارٹی میں شامل ہو گیا اور اس کی نبرنگ پور اکائی کا صدر بنا (جو تب بھی کوراپٹ ضلع کا ہی حصہ تھا)۔ میں نے یہاں کانگریس کے ۲۰ ہزار ممبر بنائے۔ یہ ستیہ گرہ کے لیے سب سے اچھی جگہ ثابت ہوئی۔‘‘
لیکن، جس وقت ہزاروں لوگ کوراپٹ کی جانب مارچ کر رہے تھے، باجی محمد نے کہیں اور کا رخ کیا۔ ’’میں گاندھی جی کے پاس گیا۔ مجھے ان کو دیکھنا تھا۔‘‘ لہٰذا، انہوں نے ’’ایک سائیکل اٹھائی، دوست لکشمن ساہو کو ساتھ لیا، جیب میں کوئی پیسہ نہیں تھا، اور یہاں سے رائے پور گیا۔‘‘ ۳۵۰ کلومیٹر کی دوری طے کی، وہ بھی کافی دشوار پہاڑی راستوں سے ہوکر۔ ’’وہاں سے ہم نے وَردھا کے لیے ٹرین پکڑی اور سیواگرام پہنچے۔ ان کے آشرم میں کئی عظیم لوگ تھے۔ ہمیں کافی تعجب ہوا اور تشویش بھی۔ کیا ہمیں اُن سے کبھی ملنے کا موقع مل پائے گا؟ لوگوں نے ہم سے کہا کہ ان کے سکریٹری مہادیو دیسائی سے پوچھیے۔
’’دیسائی نے ہم سے کہا کہ ہم اُن سے شام کو ۵ بجے بات کریں، جب وہ چہل قدمی کے لیے نکلتے ہیں۔ یہ اچھا رہے گا، میں نے سوچا۔ آرام سے ملاقات ہوگی۔ لیکن وہ بہت تیز چلتے تھے۔ میری دوڑ کے برابر ان کی چال تھی۔ آخرکار، جب میں ان کو پکڑ پانے میں ناکام رہا، تو میں نے ان سے درخواست کی: براہِ کرم رک جائیں: میں صرف آپ کو دیکھنے اوڈیشہ سے چل کر یہاں تک آیا ہوں۔
’’انہوں نے بڑے مزے سے کہا: ’تم کیا دیکھنا چاہتے ہو؟ میں بھی ایک انسان ہوں، دو ہاتھ، دو پیر، دو آنکھیں۔ کیا تم اوڈیشہ میں ایک ستیہ گرہی ہو؟‘ میں نے جواب دیا کہ میں نے ایسا بننے کا عہد کیا ہے۔
’’’جاؤ‘، گاندھی نے کہا۔ ’جاؤ لاٹھی کھاؤ۔ ملک کے لیے قربانی دو۔‘ سات دنوں کے بعد، ہم یہاں وہی کرنے کے لیے لوٹے، جیسا کہ انہوں نے ہمیں حکم دیا تھا۔‘‘ باجی محمد نے جنگ مخالف تحریک کے طور پر نبرنگ پور مسجد کے باہر ستیہ گرہ کیا۔ اس کی پاداش میں انہیں ’’جیل میں چھ مہینے گزارنے پڑے اور ۵۰ روپے کا جرمانہ بھرنا پڑا۔ اُن دنوں یہ بہت بڑی رقم ہوا کرتی تھی۔‘‘
اس کے بعد اور بھی کئی واقعات رونما ہوئے۔ ’’ایک بار، جیل میں، پولیس پر حملہ کرنے کے لیے لوگ جمع ہو گئے۔ میں نے بیچ میں آکر اسے روک دیا۔ ’مریں گے، لیکن ماریں گے نہیں‘، میں نے کہا۔


