طوفانی اور ان کے ساتھ کام کرنے والے دوسرے بُنکر صبح ساڑھے چھ بجے سے ہی کام میں مصروف ہیں۔ ایک دن میں ۱۲ انچ کی رفتار سے ان چار بُنکروں کو ۲۳ ضرب ۶ فٹ کا ایک غالیچہ تیار کرنے میں ۴۰ دن لگیں گے، جسے وہ بُننے میں مصروف ہیں۔
آدھی دوپہر گزر چکی ہے، اور طوفانی بِند کو لکڑی کی ایک بینچ پر تھوڑی دیر آرام کرنے کا موقع صبح سے ابھی ملا ہے۔ ان کے پیچھے کی ٹین شیڈ میں ایک لکڑی کے فریم پر سوتی کے سفید دھاگے لٹکے ہوئے ہیں۔ طوفانی اسی شیڈ کے نیچے کام کرتے ہیں۔ ان کا یہ ورکشاپ اتر پردیش کے پُرجاگیر موجیہرا گاؤں میں ہے۔ یہ گاؤں ریاست کی قالین بُنائی صنعت کا ایک اہم مرکز ہے۔ اس ہنر کو یہاں مغل لے کر آئے تھے، لیکن اسے صنعت کی شکل انگریزوں نے دی۔ قالین، غالیچہ اور چٹائی کی صنعت پر اتر پردیش کا غلبہ ہے۔ سال ۲۰۲۰ کے آل انڈیا ہینڈ لوم سینسس کے مطابق، مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً آدھی حصہ داری (۴۷ فیصد) اکیلے اتر پردیش کی ہے۔
جیسے ہی آپ مرزا پور شہر سے آنے والے ہائی وے کو چھوڑ کر پُرجاگیر موجیہرا گاؤں والے راستے پر آگے بڑھتے ہیں، یہ سڑک آگے جاتی ہوئی لگاتار تنگ ہوتی جاتی ہے۔ سڑک کے دونوں طرف پختہ مکان بنے ہوئے ہیں، جو زیادہ تر ایک منزل والے ہیں۔ پھوس کی چھت والے کچے مکانوں کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے۔ گوبر کے اُپلوں سے اٹھتا ہوا دھواں ہوا میں پھیل رہا ہے۔ دن کے وقت مرد گھر کے باہر بمشکل نظر آتے ہیں، البتہ ہینڈ پمپ کے نیچے کپڑے دھونے یا سبزی اور فیشن کے سامان بیچنے والے مقامی دکانداروں سے بات چیت کرتی عورتیں یا دوسرے گھریلو کاموں میں مصروف عورتیں ضرور نظر آ جاتی ہیں۔
ایسی کوئی نشانی نہیں ملتی، جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ یہ بُنکروں کا علاقہ ہے – کہیں کوئی قالین یا غالیچہ [جیسا کہ مقامی لوگ اسے کہتے ہیں] ٹنگا یا رکھا ہوا نہیں دکھائی دیتا ہے، جب کہ تقریباً سبھی گھروں میں الگ سے کوئی جگہ یا کمرہ ضرور ہے، جہاں قالینوں کی بُنائی کی جاتی ہے۔ لیکن جیسے ہی یہ بن کر تیار ہوتے ہیں، بچولیے ان کی دھلائی اور صفائی کرنے کے لیے لے جاتے ہیں۔
اپنے آرام کرنے کے وقت سے تھوڑا وقت نکال کر پاری سے بات چیت کرتے ہوئے طوفانی کہتے ہیں، ’’میں نے یہ کام [پھندے والی بُنائی کا] اپنے والد سے سیکھا تھا اور اسے تقریباً ۱۳-۱۲ سال کی عمر سے کر رہا ہوں۔‘‘ ان کی فیملی کا تعلق بِند برادری سے ہے، جو ریاست میں دیگر پس ماندہ طبقہ (او بی سی) کی فہرست میں شامل ہے۔ مردم شماری کے مطابق، اتر پردیش میں زیادہ تر بِند او بی سی کی فہرست میں آتے ہیں۔























