’’ہمارے گھروں کو گرانے کے لیے انہیں ہاتھی لانے پڑے،‘‘ بھرت جوائے ریانگ کہتے ہیں۔
’’پھر بھی [ہاتھیوں کی مدد سے] وہ ہمارے گھر نہیں گرا پائے۔ آخر میں انہوں نے ہمارے ٹنگ گھروں کو جلا دیا۔‘‘ تقریباً ۷۵ سال کے اس ریانگ آدیواسی کو وہ وقت یاد ہے، جب افسر جنگلات انہیں، ان کی بیوی اور بچوں کو زبردستی آسام کے شری بھومی ضلع (سابقہ نام کریم گنج) میں ان کے گھر سے نکال رہے تھے۔ یہ واقعہ ۱۹۸۰ کے ابتدائی سالوں کا ہے۔ جن گھروں کی وہ بات کر رہے ہیں، انہیں ’ٹنگ‘ گھر کہا جاتا ہے، یا مقامی لوگ اسے ’گائیرنگ نک‘ کہتے ہیں۔ یہ ایک روایتی مکان ہے، جو تریپورہ کے کئی قبیلوں میں عام ہے، جس میں بھرت جوائے کی اپنی برادری بھی شامل ہے۔
وہ بتاتے ہیں، ’’ہم پہاڑ کے لوگ کبھی مٹی یا اینٹ کے گھروں میں نہیں رہتے تھے۔ ہمیں ہمیشہ ٹنگ گھر ہی پسند تھے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ شمالی تریپورہ ضلع کے اس پاڑہ (بستی) میں اپنے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ ایک بانس کا بنا گھر ہے، جو بانس کے ستونوں پر کھڑا ہے اور زمین سے تقریباً ایک فٹ اوپر ہے۔ پہلے ان گھروں کی چھتیں گھاس پھوس سے ڈھکی ہوتی تھیں، لیکن بھرت جوائے کے ٹنگ گھر کی چھت ٹین کی ہے۔ یہ ایک لمبی اور پتھروں سے بنی مشکل سڑک کے کنارے کھڑا ہے، جو باگاباس سے آتی ہے اور زئیتھانگ گاؤں میں پر امن ٹنگ چیرا پاڑہ تک جاتی ہے، جہاں ہم ان سے بات کر رہے ہیں۔
گاؤں میں داخل ہوتے ہوئے بھرت جوائے کا گھر سب سے پہلے دکھائی دیتا ہے۔ یہ پہاڑوں کی بلندی پر آباد ایک گاؤں ہے، جہاں چاروں طرف گھنے جنگل اور ٹھہرے ہوئے پانی کے تالاب ہیں۔ ریاست تریپورہ کے دھرم نگر شہر سے تقریباً ۲۵ کلومیٹر دور واقع یہ انتہائی خاموش بستی ہے۔ یہاں ریانگ (یا رائنگ) قبیلہ کے تقریباً ۱۵۰ خاندان رہتے ہیں۔ یہ قبیلہ ریاست کے واحد انتہائی کمزور قبائلی گروپ (پی وی ٹی جی) کے طور پر درج ہے۔


















