گجانند سہریا نے پہلی بار یہ سنا کہ وہ زمین کے مالک ہیں، جب کچھ لوگ ان کے کچے مکان پر آئے اور ان سے زمین بیچنے کو کہا۔ کلونی گاؤں میں آدیواسیوں کی ایک بستی ہے، مُنڈیار۔ گجانند اسی بستی میں رہتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں، ’’مجھ سے کہا گیا کہ میرے نام پر ۱۰ بیگھہ [تقریباً چھ ایکڑ] زمین ہے۔ میں زمین دیکھنے گیا [جو تقریباً دو کلومیٹر دور تھی]۔ وہ زمین پوری طرح جھاڑیوں سے بھری تھی۔ اُس پر کبھی کھیتی نہیں ہوئی۔ نہ ہم نے کی اور نہ کسی اور نے۔‘‘
پینتیس سال کے اس سہریا آدیواسی کو اپنی اس نئی حالت پر یقین نہیں ہوا، لیکن وہ آنے والے پیسوں کے بارے میں سوچ کر خوش ہو گئے۔ وہ مشکل سے مہینہ میں چار پانچ دن ہی دہاڑی مزدوری کر پاتے ہیں، جہاں انہیں دن بھر کی مزدوری کے صرف ۲۰۰ روپے ملتے ہیں۔ گجانند کا ۱۵ رکنی ایک مشترکہ خاندان ہے، جو شاہ آباد کے جنگلات سے جنگلی پیداوار اکٹھا کر کے اپنا گزارہ کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا، ’’ہم مہوا، تیندو، جلاون کی لکڑی، اچار، آنولہ لاتے ہیں۔ اسی سے ہمارا گزارہ ہوتا ہے۔‘‘ اس سے انہیں مہینہ میں کچھ ہزار روپیوں کی آمدنی ہو جاتی ہے۔
جس جنگل پر وہ منحصر ہیں، وہ مشرقی راجستان میں پھیلا شاہ آباد کے کنارے کا ایک جنگل ہے، جو ۱۷۹ مربع کلومیٹر میں پھیلا ہوا ہے۔ اس گھنے جنگلاتی علاقہ میں نایاب درخت، نباتات، ایک جنگلی حیات موجود ہیں۔ حال ہی میں، سال ۲۰۲۲ میں، ماحولیاتی اعتبار سے اہم اس جنگل کو محکمہ جنگلات نے محفوظ جنگلاتی علاقہ قرار دیا۔ کڑایا (اسٹاکولیا یورینس) کے درخت شاہ آباد جیسے کچھ ہی جنگلوں میں پائے جاتے ہیں، اور یہاں سینکڑوں ادویاتی پودے بھی موجود ہیں۔
یہ جنگل، جنگلی حیات کے تحفظ کا قانون، ۱۹۷۲ کے تحت پہلے شیڈول میں شامل کیے گئے جانوروں اور پرندوں کی پناہ گاہ ہے، جن کا شکار کرنا غیر قانونی ہے۔ ان میں بنگال فاکس، گولڈن فاکس، ہندوستانی بھیڑیا، تیندوا (پینتھیرا پارڈس)، ہندوستانی بھورا نیولا، دھاری دار لکڑ بگھا (ہائنا ہائنا)، بِجّو، سیوٹ بلی، کالے بھالو (میلرسس ارسینس)، لال سر والے گدھ، ہندوستانی مور، اور کئی دیگر انواع شامل ہیں۔
یہ جنگل کونو نیشنل پارک سے ایک گھنٹہ سے بھی کم فاصلہ پر ہے۔ یہ اس مجوزہ گلیارے کے اندر واقع ہے، جس کے ذریعہ کونو کو گاندھی ساگر وائلڈ لائف سینکچوری سے جوڑنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ چونکہ چیتے بہت تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، اس لیے اہلکاروں کو امید ہے کہ اس گلیارے سے انہیں بچانے میں مدد ملے گی۔
جون میں اس پورے ہفتہ بارش ہوتی رہی۔ پورا جنگل پانی کے چھوٹے چھوٹے بہاؤ سے بھر گیا ہے، جو پانی کی بڑی موجوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ سبھی موجیں کُنڈا کھوہ جھرنے کی طرف بہہ رہی ہیں، جو تقریباً ۱۰۰ فٹ کی اونچائی سے کیچڑ بھرے پانی کو ایک گہری کھائی میں گرا رہا ہے۔ نیچے کونو ندی سانپ کی طرح لہراتی ہوئی بہہ رہی ہے۔ بارش کے باوجود گاؤں والے یہاں لکڑیوں کو چھوڑ کر بقیہ جنگلی پیداوار جمع کرتے نظر آتے ہیں۔



















