وینا رانی (۲۴) ستمبر ۲۰۲۵ میں مہینہ بھر ٹھیک سے سو نہیں پائیں۔ وہ جیسے ہی چارپائی پر لیٹتیں اور سونے کی کوشش کرتیں، پچھلے مہینہ آئے سیلاب کی بھیانک یادیں ان کی نیندیں اُڑا لے جاتیں۔ پنجاب کے فاضلکہ ضلع کے ولّے شاہ اُتّر گاؤں میں واقع ان کے گھر اور کھیتوں کو نگل جانے والے پانی کا منظر گھنٹوں ان کی بند آنکھوں میں گھومتا رہتا۔
’’میں پہلے سے تھوڑا بہتر محسوس کر رہی ہوں،’’ سونے سے پہلے اپنی دوا کھاتے ہوئے وینا کہتی ہیں۔ گاؤں کے مرکزی حصہ میں کھیتوں کے درمیان بنا ہوا ان کا تین کمروں کا پکّا مکان ستلج ندی سے نکلنے والی ایک آبی گزرگاہ کے قریب ہے۔ ان کے گھر سے دیکھنے پر یہ آبی گزرگاہ خاموش سی لگتی ہے، لیکن آٹھ فٹ گہری ہے۔ اُس پار ان کا چار ایکڑ میں پھیلا کھیت ہے۔
’’یہ ہنسنا بھول گئی تھی،‘‘ وینا کی ۲۶ سالہ بہن کیلاش رانی بتاتی ہیں۔ ان کے والد جرنیل سنگھ (۵۲) یاد کرتے ہیں کہ اگر وہ لوگ انہیں بیٹھنے کے لیے کہتے تو وہ کیسے رونے لگتی تھیں۔
’’میں صرف یہی سوچتی رہتی تھی کہ فصل تباہ ہو چکی ہے تو اب پیسہ کہاں سے ملے گا، کھیت کب تک پانی میں ڈوبا رہے گا، کیا ہم اگلی بار گیہوں کی بوائی کر پائیں گے،‘‘ وینا کہتی ہیں۔ جب ان کے عزیز و اقارب یہ پوچھتے تھے کہ کون سی چیز انہیں بے چین کر رہی ہے، تو وہ بڑی مشکل سے اس کا جواب دے پاتی تھیں۔ ’’ایسا لگتا تھا کہ میرے سر پر کوئی بڑا بوجھ ہے۔‘‘
سیلاب کی وجہ سے گاؤں کا ہر آدمی پریشان تھا، اور وینا کو لگتا تھا کہ پانی جلد ہی اتر جائے گا۔
لیکن ایسا نہیں ہوا۔ جب ان کی بے چینی اور بے قراری بہت زیادہ بڑھنے لگی، تو گھر والے انہیں ۵۰ کلومیٹر دور، ابوہر کے ایک ماہر نفسیات کو دکھانے لے گئے، جس نے بتایا کہ وہ ڈپریشن (شدید ذہنی دباؤ) میں مبتلا ہیں، اور انہیں پانچ مہینے کی دوا دی۔
وہ کلینک میں بھی سسک رہی تھیں۔ ’’دماغ دی نسّ کمزور ہو گئی نے [میرے دماغ کی رگیں کمزور ہو گئی ہیں]،‘‘ وہ کہتی ہیں۔
















