رُجلُک سُ یاَرسُ تھَے گوو بہنائے آنتھے آنتھے، ایک دم او پَش تھَے گوو ہملای آنتھے آنتھے…
وہ آیا اور بہانے بنا کر چلا گیا، اُس نے دیکھا مجھے اور پھر چلا گیا
یار اپنا بہانے بنا کر چلا گیا، اُس نے دیکھا مجھے اور پھر چلا گیا



رُجلُک سُ یاَرسُ تھَے گوو بہنائے آنتھے آنتھے، ایک دم او پَش تھَے گوو ہملای آنتھے آنتھے…
وہ آیا اور بہانے بنا کر چلا گیا، اُس نے دیکھا مجھے اور پھر چلا گیا
یار اپنا بہانے بنا کر چلا گیا، اُس نے دیکھا مجھے اور پھر چلا گیا
فرید احمد لون، جموں و کشمیر کی درد شِن برادری کے معروف شاعر غلام رسول مشتاق کا یہ شعر آہستہ سے پڑھتے ہوئے اپنی نظریں نیچے بہتی ہوئی کشن گنگا ندی پر گاڑ لیتے ہیں۔
دریا کے کنارے بیٹھے ہوئے، ہم دیکھ سکتے ہیں کہ پتلی برف کی تہیں جمع ہونا شروع ہو گئی ہیں جبکہ چھوٹی تہیں بہتی جا رہی ہیں۔ دریا ابھی پوری طرح جما نہیں ہے، لیکن اس میں تبدیلی آ رہی ہے۔ موسم بدل رہا ہے۔
چند میٹر کے فاصلہ پر، مقامی خواتین لکڑی اور گھاس کے گٹھر اٹھائے چل رہی ہیں، جن میں کچھ کا وزن ۲۵ سے ۳۰ کلوگرام تک ہے۔ ایک دوسری عورت گائے کے گوبر سے بھرا ٹب لیے جا رہی ہے تاکہ اسے دان (سردیوں میں جلایا جانے والا روایتی چولہا) کے ایندھن کے طور پر محفوظ کیا جا سکے۔ ہمارے ارد گرد وہ سیاح جو گریز وادی کی سیر کو آئے تھے، آہستہ آہستہ واپس جا رہے ہیں۔
فرید موسم کی اس تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جو صرف دریا میں ہی نہیں، بلکہ ان تیاروں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے جو پورے گریز میں سردیوں کے لیے کی جا رہی ہیں۔ درد شِن برادری سے تعلق رکھنے والے فرید کہتے ہیں کہ ان کی اکثریت گریز وادی میں رہتی ہے، جو ۲۰۱۱ کی مردم شماری کے مطابق ۳۷۹۹۲ دردک لوگوں کا مسکن ہے۔

Muzamil Bhat

Muzamil Bhat

Muzamil Bhat

Muzamil Bhat
جیسے ہی اکتوبر کے آس پاس سردی کا آغاز ہوتا ہے، پوری وادی برف کی چادر میں لپٹ جاتی ہے۔ ’’صرف بزرگ ہی یہاں رہ جاتے ہیں،‘‘ فرید (۶۸) کہتے ہیں۔ برف کی وجہ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ ’’جو لوگ رک جاتے ہیں وہ زیادہ تر گھروں کے اندر ہی رہتے ہیں۔‘‘
کبھی کبھی، وادی کے کچھ حصوں میں برف ۱۵ فٹ تک جم جاتی ہے اور وہ چھ ماہ تک ریاست کے باقی حصوں سے کٹے رہتے ہیں، جس کے باعث تقریباً ۸۰ فیصد آبادی کو مہاجرت کرنی پڑتی ہے۔ ’’کچھ لوگ کشمیر کے دیگر علاقوں میں چلے جاتے ہیں، جبکہ دوسرے لوگ مزدوری کے لیے ہماچل پردیش یا پنجاب جیسی ریاستوں کا رخ کرتے ہیں،‘‘ محکمہ باغبانی کے ریٹائرڈ سینئر ٹیکنیشن فرید احمد لون کہتے ہیں۔ جو لوگ کشمیر میں ہی رک جاتے ہیں، وہ اکثر چھوٹے ہوٹلوں میں خانساموں کے ساتھ یا سرینگر کی حریصہ کی دکانوں میں کام کرتے ہیں۔ (پڑھیں: گرماگرم ہریسہ کھانے کا مزہ ہی کچھ اور ہے!)
سخت سردیاں اور شدید موسمی حالات ایک مسلسل چیلنج ہیں۔ سال ۲۰۱۷ میں، ۲۵ جنوری کو گریز میں چار برفانی تودے گرے، جن میں ۲۰ فوجی اور ۴ شہری جاں بحق ہوئے۔ یہ حادثہ فرید کے گاؤں داور سے تقریباً ۲۶ کلومیٹر دور مازگنڈ نیرو میں پیش آیا تھا۔
فرید کو وہ زمانہ بھی یاد ہے جب گریز میں بنیادی طبی سہولت حاصل کرنا بھی مشکل تھا۔ سال ۱۹۷۰ کی دہائی کے اوائل میں، قریبی گاؤں مرکوٹ کے ایک مولوی صاحب سردیوں میں بیمار ہو گئے۔ اس وقت برف ۱۲ سے ۱۵ فٹ تک گری تھی۔ ’’لوگ ان کو چارپائی پر لے کر گئے،‘‘ فرید یاد کرتے ہیں۔ انہیں بانڈی پورہ میں واقع اسپتال تک پہنچانے میں دو دن لگ گئے، جو کہ تقریباً ۸۶ کلومیٹر دور تھا۔
ایک دوسرے واقعہ میں، ایک استاد محترم کی بیٹی کو حمل کے دوران مشکل پیش آئی۔ اس وقت کوئی سول ہیلی کاپٹر موجود نہیں تھا، اور اسپتال لے جانے کا خرچ ایک لاکھ روپے سے زیادہ آ سکتا تھا۔ تب ہندوستانی فوج نے مدد کی۔ ’’فوج نے ’سدبھاونا‘ کے تحت مدد کرنا شروع کیا،‘‘ فرید بتاتے ہیں۔
آج اگرچہ حالات کچھ بہتر ہو گئے ہیں، لیکن جموں و کشمیر میں درج فہرست قبائل میں شامل یہ برادری اب بھی ہنگامی صورتِحال میں انخلا کے لیے فوج پر انحصار کرتی ہے۔ حمل اور زچگی آج بھی یہاں ایک بڑا مسئلہ ہے۔

Muzamil Bhat

Muzamil Bhat
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان لائن آف کنٹرول (ایل او سی) قریب ہی واقع ہے، اس لیے موسمی مہاجرت کے علاوہ، سرحد پار سے ہونے والی گولہ باری فرید کی برادری کے لیے ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
فرید کیمپ کے آس پاس چلتے ہوئے اچانک رُک جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’اس سڑک کی تصویر آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہے۔‘‘ وہ کہتے ہیں، ’’سال ۲۰۰۵ کی بات ہے، میرے گاؤں کے ایک باپ بیٹا اپنی بھیڑیں چرا رہے تھے۔ اُنہیں اِس پُل سے گزر کر گاؤں میں داخل ہونا تھا،‘‘ وہ سڑک کے دوسرے کنارے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
’’باپ پیچھے پیچھے، بیٹا آگے آگے،‘‘ فرید یاد کرتے ہیں، جو اُس وقت قریب کی ایک مسجد میں تھے اور دور سے دونوں کو دیکھ رہے تھے۔ اُن کی آنکھوں کے سامنے اُن دونوں کے اوپر ایک بم آ کر گرا۔ لیکن اُس خاندان کا المیہ وہیں ختم نہیں ہوا۔ اُسی دن، اسی خاندان کی ایک لڑکی، جو امتحان دینے کے لیے گھر سے نکلی تھی اور جو فوجی کیمپ کے قریب سے گزر رہی تھی، اندھا دھند گولہ باری کی زد میں آ گئی۔
پاری کو یہ بتاتے ہوئے فرید کی آواز کانپنے لگتی ہے، ’’ایک ہی دن میں، ایک کا بیٹا گیا اور دوسرے کی بیٹی گئی۔‘‘ اس گولہ باری میں ۲۰ سے ۲۵ لوگ جاں بحق ہوئے، اور کئی مویشی بھی ہلاک ہو گئے۔
ایک اور واقعہ میں، تُلیل بازار مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جب بازار کے قریب کھڑی ایک بس پر گولہ باری کی وجہ سے آگ لگ گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ آگ تیزی سے پھیل گئی کیوں کہ اُس وقت زیادہ تر عمارتیں لکڑی کی بنی ہوئی تھیں۔
فرید سوال کرتے ہیں، ’’کون چاہے گا کہ وہ یہاں مرے؟ کون ایسی جگہ رہنا چاہے گا؟‘‘ اب وہ داور میں رہتے ہیں، جو تُلیل وادی جانے سے پہلے کا آخری بازار ہے۔ وہ اپنی بیوی، چار بیٹوں اور تین بیٹیوں کے ساتھ وہاں مقیم ہیں۔

Muzamil Bhat

Muzamil Bhat
پہلے بھی گریز میں آمدنی کے زیادہ مواقع موجود نہیں تھے۔ ’’لوگ مویشی چرا کر یا فوج کے ساتھ بطور قلی کام کر کے گزر بسر کرتے تھے۔‘‘ سبھی کے پاس گھوڑے ہوتے تھے، اور ’’ملازمت بالکل کم تھی،‘‘ فرید کہتے ہیں۔ بہت سے لوگ پَٹّو بُنائی کا کام کرتے تھے، جو اس برادری کی روایتی دستکاری ہے۔ (پڑھیں: وادی گریز سے غائب ہوتی جا رہی پٹّو کی بُنائی)
جب لوگ وادی کے دیگر حصوں کی طرف گئے تو اُنہیں بہتر روزگار، تعلیم اور صحت کی سہولتیں ملیں۔ اس لیے، فرید بتاتے ہیں کہ لوگ بانڈی پورہ، گاندر بل، کنگن اور سرینگر کے پُرانے شہر جیسے علاقوں میں بسنا شروع ہو گئے۔
لیکن جیسے جیسے زیادہ لوگ گریز سے باہر منتقل ہوتے گئے، اپنی مادری زبان میں بات کرنا مشکل ہوتا گیا۔ جب درد شِن لوگ بانڈی پورہ خریداری کے لیے جاتے ہیں، تو ان میں سے بہت سے لوگ دوسرے کشمیریوں کے سامنے شینا میں بات نہیں کرتے۔ ’’ایک کامپلیکس ہوتا ہے۔ شاید ہم الگ ہیں۔‘‘
لیکن ہمیشہ ایسا نہیں تھا۔ ’’جب میں چھوٹا تھا، تو ہر کوئی شینا میں بات کرتا تھا،‘‘ فرید یاد کرتے ہیں۔ ’’لیکن اب، جب بھی میں بازار جاتا ہوں، تو اپنی برادری کے نوجوانوں کو اردو، ہندی، کشمیری، اور کبھی کبھار انگریزی میں بات کرتے دیکھتا ہوں۔‘‘
شینا ایک دردک زبان ہے جو ہند آریائی لسانی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ اگرچہ یونیسکو نے اسے معدوم زبانوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا ہے، لیکن اسے بولنے والوں کی تعداد میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔ اب اسے ’’غیر محفوظ زبان‘‘ کے طور پر درج فہرست کیا گیا ہے۔
گزشتہ ۴۰ برسوں سے، حبہ خاتون ثقافتی گروپ کے رکن کے طور پر فرید اپنی مادری زبان کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ گروپ گریز کے مقامی لوگوں کے تعاون سے چلتا ہے اور کبھی کبھار اپنی پیشکشوں کے عوض معاوضہ بھی حاصل کرتا ہے۔ یہ اسکولوں میں ثقافتی پروگرام منعقد کرتا ہے تاکہ برادری کی زبان اور ثقافت کے بارے میں آگاہی پیدا کی جا سکے۔

Muzamil Bhat

Muzamil Bhat
اس کوشش کو جاری رکھنا ہر گزرتے دن کے ساتھ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں کے تقریباً تمام بچے گریز سے باہر تعلیم حاصل کرتے ہیں، اس لیے سیکھنے والا بھی کوئی نہیں بچا۔ ’’اسکولوں میں صبح کی دعا، کتابیں، اور ثقافتی پروگرام اردو، ہندی اور انگریزی میں ہوتے ہیں۔‘‘ فرید کہتے ہیں، ’’جب میں اسکولوں میں اپنے ثقافتی پروگراموں کے دوران شینا میں گیت گاتا ہوں، تو زیادہ تر طلباء کو ان گیتوں کا مطلب سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے۔‘‘
یومِ جمہوریہ اور یومِ آزادی جیسے بڑے پروگرام عموماً کشمیری اور اردو زبانوں میں منعقد کیے جاتے ہیں۔ ’’لیکن اب ہمارا گروپ اُس سوچ کو بدلنے کی کوشش کر رہا ہے، اور ان پروگراموں کو ہماری مادری زبان میں منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں لوک گیت اور اشعار پڑھنے کو بھی شامل کیا جا رہا ہے،‘‘ وہ مزید کہتے ہیں۔
*****
’’کیا تمہیں معلوم ہے ’چوک‘ کیا ہوتا ہے؟‘‘ طارق پرویز لون اپنے دسویں جماعت کے طلباء سے پوچھتے ہیں۔ طلباء اُلجھن میں ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں۔ ’’سر، یہ کیا ہے؟ کیسا دکھائی دیتا ہے؟‘‘ وانپورہ گورنمنٹ ہائی اسکول کا ایک متجسس طالب علم پوچھتا ہے۔ ہیڈ ماسٹر ایک انجانی شکل بورڈ پر بناتے ہوئے بتاتے ہیں، ’’یہ کرگھا ہے، ہمارے بزرگ اس کا استعمال اونی کپڑے بُننے کے لیے کرتے تھے۔‘‘
طارق بورڈ پر ایک گھومنے والا کھلونا (لٹو) بناتے ہیں اور پوچھتے ہیں، ’’اسے شینا میں کیا کہتے ہیں؟‘‘ ایک بچہ اسے ’لٹو‘ کہتا ہے، جو کہ کشمیری زبان کا لفظ ہے۔ کلاس میں خاموشی چھا جاتی ہے، یہاں تک کہ طارق جواب دیتے ہیں، ’’اسے تھُرکَیتی کہتے ہیں۔‘‘
وہ اپنی سرگرمی جاری رکھتے ہیں، اور پوری جماعت میں صرف ایک طالب علم ایسا ہوتا ہے جو دی گئی اشیاء کو شینا زبان میں پہچانتا ہے۔ ’’ایسے ہزاروں الفاظ ہیں،‘‘ طارق کہتے ہیں، ‘‘جو ہماری روزمرہ کی بول چال سے غائب ہو چکے ہیں، کیوں کہ ہم دوسری زبانوں کو اپنا چکے ہیں۔‘‘

Muzamil Bhat
جب گریز کے بچے اپنے گھروں سے باہر جاتے ہیں، تو وہ روزمرہ کے رابطہ کے لیے اردو اور کشمیری جیسی زبانیں سیکھ لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ، زیادہ تر بچے ہندی اور انگریزی بھی سیکھ لیتے ہیں۔
طارق کہتے ہیں، ’’جو بچہ پورے ۱۲ مہینے گریز میں رہتا ہے، اُسے شینا زبان بولنے میں کبھی مشکل نہیں ہوتی۔‘‘ لیکن جو بچے روزگار، تعلیم، صحت یا موسمی وجوہات کی بناپر باہر چلے جاتے ہیں، وہ اپنی مادری زبان شینا کو روانی سے بولنے میں دِقت محسوس کرتے ہیں۔
طارق کی بات سن کر اُن کے ساتھ کام کرنے والی ایک ٹیچر فوراً کہتی ہیں: ’’میری چھوٹی بیٹی نے اردو خود ہی سیکھ لی، فون دیکھ دیکھ کر۔‘‘ وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے خود اسے اردو نہیں سکھائی۔ لیکن جب انہوں نے شینا سکھانے کی کوشش کی، تو بیٹی نے زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی۔ اب ایک سال سے وہ آہستہ آہستہ شینا سیکھنا شروع کر رہی ہے۔ ان کی بڑی بیٹی شینا بولتی ہے، کیوں کہ وہ اب ایسے اسکول میں جا رہی ہے جہاں بچوں کو مادری زبان میں پڑھایا جاتا ہے۔
طارق محسوس کرتے ہیں کہ زبان کو زندہ رکھنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ اسے گھروں اور بازاروں میں بولا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کشمیری اور اردو سیکھنے کے خلاف نہیں ہیں، کیوں کہ یہ زبانیں بچوں کو گریز سے باہر دوسرے علاقوں کے بچوں سے جڑنے میں مدد دیتی ہیں،
’’لیکن اپنی زبان کو بھولنا، اپنی شناخت کو بھولنے کے مترادف ہے،‘‘ وہ زور دے کر کہتے ہیں۔
تاہم، برادری کے بہت سے طلباء اپنی دردک شناخت ظاہر کرنے سے ہچکچاتے ہیں، کیوں کہ اُنہیں خدشہ ہوتا ہے کہ انہیں ’دَردے‘ کہہ کر پکارا جائے گا۔ یہ ایک ایسا لفظ ہے جو کبھی کبھار برادری کے خلاف تحقیر آمیز انداز میں استعمال کیا جاتا ہے۔

Muzamil Bhat

Muzamil Bhat
*****
گریز وادی کسی زمانے میں کشمیری عوام کے لیے شاہراہ ریشم ہوا کرتی تھی، جس کے ذریعہ وہ بانڈی پورہ سے گریز ہوتے ہوئے گلگت تجارت اور زیارت کے لیے جایا کرتے تھے۔ یہی راستہ حج پر جانے والے قافلوں کے لیے بھی استعمال ہوتا تھا۔
گریز اور دراس میں بسنے والا درد شِن قبیلہ ثقافتی اور لسانی لحاظ سے ایک منفرد شناخت رکھتا ہے، جس کی جڑیں دردستان سے جا ملتی ہیں – ایک تاریخی علاقہ جو کبھی وادی کشمیر سے لے کر گلگت اور افغانستان تک پھیلا ہوا تھا۔ کشمیریوں اور دردوں کے درمیان تعلقات ۱۹۴۷ کی تقسیم سے بھی بہت پرانے ہیں۔ حکومت جموں و کشمیر حکومت کے سابق ڈائرکٹر برائے تعلیم، مسعود الحسن سمون (۷۳) کہتے ہیں: ’’تقسیم تو کل کی بات ہے، درد لوگ صدیوں سے جموں و کشمیر میں آباد ہیں۔‘‘
وادی کشمیر کے بارہویں صدی کے مؤرخ کلہن نے اپنی مشہور سنسکرت تاریخی نظم ’راج ترنگنی‘ میں گریز کے دردوں کا ذکر کیا ہے۔ مسعود بتاتے ہیں کہ گریز کے بادشاہ اکثر وادی کے حکمرانوں سے برسرِ پیکار رہتے تھے، اور ایک اہم جنگ ددکتھ پہاڑ پر دردوں اور بادشاہ ہرش کے درمیان ہوئی تھی (یہ ہرش ہندوستان کے ہرش وردھن سے مختلف ہیں)۔
شینا زبان کا کوئی علیحدہ رسم الخط نہیں ہے، اور یہ زبان صدیوں سے زبانی روایات، لوک کہانیوں، اور لوک گیتوں کے ذریعے زندہ رہی ہے۔ لیکن دہائیوں سے جاری موسمی ہجرت، سرحد پار سے ہونے والی گولہ باری، اور سیاسی و ثقافتی عدم استحکام نے اس برادری کو اپنی مادری زبان سے دور کر دیا ہے۔
مسعود کہتے ہیں: ’’جب سرینگر میں ۵۰ گھروں میں سے صرف ایک ہی گھر شینا بولتا ہے، تو یہ زبان کیسے زندہ رہے گی؟‘‘ ان کا کہنا ہے کہ برادری کے بچے دوسرے بچوں سے کشمیری یا دیگر عام زبانوں میں بات کرتے ہیں۔ ’’شاید ایک نسل تک یہ زبان بولی جاتی رہے گی، لیکن اگلی نسل کے لیے یہ زبان مر چکی ہوگی۔‘‘
مسعود سمون اس وقت شینا زبان کے لیے ایک متحدہ رسم الخط تیار کرنے میں مصروف ہیں اور شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ علاقے میں رہتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں، ’’اب تک شینا کے لیے دو مختلف رسم الخط تیار کیے گئے تھے – ایک رومن رسم الخط میں تھا، جسے جارج ابراہم گریرسن نے تیار کیا تھا؛ اور دوسرا ’گلگت اور شینا زبان‘ کے عنوان سے اردو (نستعلیق رسم الخط) میں ڈاکٹر شجاع ناموس نے تیار کیا تھا۔ ڈاکٹر شجاع پاکستان کے گلگت میں ضلع تعلیمی افسر تھے۔‘‘
لیکن دونوں ہی صورتوں میں یہ دستاویزات صرف ان کی تحقیقی حد تک محدود رہیں، کیوں کہ نہ تو گریرسن اور نہ ہی ڈاکٹر شجاع شینا زبان کے حقیقی بولنے والوں میں سے تھے۔ اسی وجہ سے شینا کی صوتیات کی بہت سی باریکیوں کو صحیح طریقے سے درج نہیں کیا جا سکا۔
مسعود کہتے ہیں کہ شینا میں چار ایسے منفرد حروفِ ہیں، ’’جو دائیں بائیں کی کسی زبان میں نہیں پائے جاتے، اردو یا فارسی تو دور کی بات ہے، یہ کشمیری میں بھی نہیں ہیں۔‘‘ لہٰذا، زبان کے لیے منفرد حرکات و علامات کی ضرورت ہے، لیکن اب تک کوئی کامیاب نہ ہو سکا۔ وہ مزید بتاتے ہیں کہ بعد میں پروفیسر محمد امین ضیاء، جو پاکستان کی قراقرم یونیورسٹی سے وابستہ تھے، نے شینا زبان کی گرامر اور قواعد پر کام کیا – اُس وقت جب کمپیوٹرز کا آغاز ہو رہا تھا۔ لیکن اُن کا کام بھی رسم الخط پر مرکوز نہیں تھا۔
مسعود کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے طارق کہتے ہیں، ’’جب زبان لکھنے یا سکھانے کے لیے کوئی رسم الخط ہی نہیں ہوگا، تو ہم کیسے آگے بڑھیں گے؟‘‘ جب شینا گرامر پر کتاب شائع ہوئی تو کچھ افراد نے ایک وہاٹس ایپ گروپ بھی بنایا، لیکن وہ بھی کامیاب نہ ہو سکا۔
فرید کا بھی ماننا ہے کہ ’’ایک باقاعدہ رسم الخط سے مدد ملے گی، کیوں کہ شینا کا زیادہ تر ادب آج بھی اردو میں لکھا جاتا ہے۔‘‘ نیا رسم الخط متعارف کرانے سے بچے اپنی مادری زبان سے زیادہ قریب ہوں گے۔ فرید مزید کہتے ہیں، ’’جب ہمارے بچے کشمیر سے روس یا جرمنی جیسے ممالک میں جاتے ہیں، تو ہم اُنہیں وہ غیر ملکی زبانیں نہیں سکھاتے – وہ خود ہی سیکھ لیتے ہیں۔‘‘ اسی طرح، اگر شینا رسم الخط متعارف کرایا جائے تو بچے اُسے بھی سیکھ لیں گے۔‘‘

Muzamil Bhat

Muzamil Bhat
مسعود پُرزور انداز میں کہتے ہیں کہ ادب ہی وہ بنیادی عنصر ہے جو زبانوں کو زندہ رکھتا ہے۔ وہ کشمیری ادب کی مثال دیتے ہیں – لل دد، شیخُ العالم (جنہیں نند رشی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے)، اور قرونِ وسطیٰ اور جدید دور کے دیگر کئی شعرا کا کا کلام کافی پڑھا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آج بھی کشمیری زبان میں بڑی مقدار میں نثر اور شاعری تخلیق ہو رہی ہے، اور یہی مستقبل میں اس زبان کی بقا کا ذریعہ بنے گا، ’’لیکن شینا کے بارے میں ہم ایسا نہیں کہہ سکتے۔‘‘
مسعود کا شینا کے لیے ایک منفرد رسم الخط تیار کرنے کا سفر ۱۹۵۷ میں شروع ہوا، جب وہ کشمیر یونیورسٹی میں اردو اور فارسی کے استاد کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ ’’میں لوک داستانیں اور لوک گیت اکٹھا کیا کرتا تھا،‘‘ وہ کہتے ہیں، ’’لیکن اکثر یہ سوچتا تھا کہ اسے لکھا کیسے جائے؟‘‘
بعد میں جب وہ ڈاریکٹر برائے تعلیم بنے، تو جموں و کشمیر میں ایک نئی لسانی پالیسی کا اعلان ہوا، جس کے تحت چوتھی جماعت سے بچوں کو مادری زبان میں تعلیم دینے کی بات کی گئی۔ وہ کہتے ہیں،
’’وہ رسم الخط بنانے کا بہترین وقت تھا،‘‘ اور انہوں نے اس رسم الخط کو کمپیوٹر کے موافق بھی بنایا۔
انہوں نے ایک رسم الخط بنایا اور اس پر مبنی ایک ابتدائی کتاب بھی لکھی۔ لیکن جب انہوں نے ’’ذاتی اسباب کی بناپر‘‘ ملازمت چھوڑ دی، تو یہ کام ادھورا رہ گیا اور وہ اسے کبھی شائع نہیں کر پائے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب ریٹائرمنٹ کے بعد اس سمت میں انہوں نے دوبارہ اپنی کوششیں شروع کر دی ہیں۔

Muzamil Bhat

Muzamil Bhat
کئی بار کی کوششوں کے بعد، مسعود کی تیار کردہ ’پُمیکی شینا کتاب‘ بالآخر چوتھی جماعت کے طلباء کے لیے شائع کی گئی۔ تاہم، اس وقت بھی شینا کو صرف ایک اختیاری مضمون کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔ مسعود کہتے ہیں، ’’میں ایک لسانی کارکن بن گیا، اور کم از کم اپنے علاقہ میں تو میں نے رسم الخط کو باقاعدہ شکل دے دی ہے۔‘‘ حال ہی میں، سرینگر میں واقع کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ لسانیات نے بھی شینا زبان کی گرامر پر ایک کتاب شائع کی ہے۔
مسعود کا ماننا ہے کہ جب تک شینا رسم الخط کو مکمل طور پر باقاعدہ نہ بنایا جائے، تب تک کم از کم دسویں جماعت تک ابتدائی تعلیم میں اسے ذریعہ تعلیم بنایا جائے تاکہ زبان کچھ عرصہ اور زندہ رہ سکے۔ وہ مانتے ہیں کہ اعلیٰ یا تکنیکی تعلیم (جیسے کیمسٹری، فزکس) کے لیے فی الحال اسے ذریعہ تعلیم بنانا ممکن نہیں، مگر پھر بھی وہ زور دیتے ہیں کہ ’’اگر ابھی قدم نہ اٹھایا گیا، تو یہ زبان ختم ہو جائے گی۔‘‘
وہ اپنی سروس کے دنوں کا ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہیں، ’’اگر میرے دفتر میں کوئی مجھ سے کشمیری یا اردو میں بات کرتا، تو میں ڈانٹ دیتا اور کہتا کہ میں شینا بول رہا ہوں، تم بھی بولو!‘‘
پھر وہ سوال کرتے ہیں، “اگر آپ اپنے گھر والوں سے بات کرتے ہیں، تو کیا انگریزی میں کرتے ہیں؟ کوئی فرانسیسی اپنے گھر میں انگریزی نہیں بولتا۔ صرف ہم ہندوستانی ہی اس ’انگریزی کی غلامی‘ کی بیماری میں مبتلا ہیں۔‘‘
وہ کہتے ہیں کہ آج کل بچے انگریزی میں سیکھتے ہیں اور اپنی تمام ذہنی توانائی غیر ملکی زبانوں میں صرف کر دیتے ہیں۔ “ایسا نہیں ہے کہ صرف انگریز ہی ذہین ہیں۔ کیا ہم ہندوستانی بیوقوف ہیں؟ ہرگز نہیں۔ لیکن ہماری اپنی زبانیں ترقی کیوں نہیں کرتیں؟ کیوں کہ ہم سارا وقت غیر ملکی زبانیں سیکھنے میں لگا دیتے ہیں،‘‘ وہ افسوس کے ساتھ کہتے ہیں۔

Muzamil Bhat

Muzamil Bhat

Muzamil Bhat

Muzamil Bhat
نئی تعلیمی پالیسی (این ای پی) ۲۰۲۰ میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ پانچویں جماعت تک تعلیم کا ذریعہ بچوں کی مادری زبان ہونی چاہیے۔ مسعود کہتے ہیں، ’’یہ شاید ہندوستان کے تعلیمی شعبہ میں سب سے معقول قدم ہے، لیکن اسے نافذ کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔‘‘
بورڈ آف ایجوکیشن نے پہلی جماعت کے لیے کشمیری اور ڈوگری زبانوں میں کتابیں شائع کی ہیں۔ مسعود کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی شینا زبان کی کتاب تقریباً ایک سال پہلے جمع کروا دی تھی، اور اب اس کی اشاعت کا انتظار کر رہے ہیں۔
ادھر، مسعود اپنے ساتھی کارکنان کے ساتھ شینا رسم الخط کو معیاری بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، لیکن وہ اعتراف کرتے ہیں، ’’میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ جلد مکمل ہو جائے گا۔ اس میں بہت محنت درکار ہے، اور افسوس کی بات ہے کہ میں عمر رسیدہ ہو رہا ہوں۔‘‘
یہ اسٹوری پاری سینئر فیلوشپ ۲۰۲۵ کے تحت شائع کی گئی ہے۔
رپورٹر اس اسٹوری کے لیے مسعود الحسن سمون، بشیر احمد ٹیرو، فرید احمد لون، اور ابرارالعالم کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
غلام رسول مشتاق کی شینا شاعری کی ترجمانی فرید احمد لون نے کی، اور پرَتشٹھا پانڈیہ نے اس کی تدوین کی۔ مسعود الحسن سمون کی شاعری کا انگریزی ترجمہ مزمل اور پرَتشٹھا پانڈیہ نے مل کر کیا۔
عظیم پریم جی یونیورسٹی کی مدد سے پاری نے ’معدومیت کی شکار زبانوں کا پروجیکٹ‘ شروع کیا ہے۔ اس پروجیکٹ کا مقصد ہندوستان کی معدوم ہوتی زبانوں کا، انہیں بولنے والے عام عوام اور ان کی زندگی کے تجربات کے ذریعہ دستاویز بندی کرنا ہے۔
ترجمہ نگار: قمر صدیقی
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/in-gurez-home-is-not-where-the-word-is-ur