’’میں ایک پولیس افسر بن سکتی تھی اگر میرے والد نے مجھے پڑھنے کی اجازت دی ہوتی،‘‘ چپچپے برتنوں اور صابن کے جھاگ سے بھرے سِنک کی طرف متوجہ ہو کر وہ اداس لہجے میں کہتی ہیں۔ صبح کے ۹ بجے ہیں اور انہیں ہاؤسنگ سوسائٹی کے دوسرے گھروں میں بھی جانا ہے۔ اس کالونی میں جہاں وہ گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی ہیں، انہیں انیتا دیدی کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ گھر واپسی سے قبل انہیں اب بھی مزید پانچ گھروں کے کام نمٹانے ہیں۔ شمال مغربی حیدرآباد کے نلّ گنڈلا (شہر کا ایک متمول مضافاتی رہائشی علاقہ جہاں وہ کام کرتی ہیں) سے پڑوسی سنگاریڈی ضلع کے پٹان چیرو میں واقع اپنے گھر واپس آنے کے لیے انہیں ۱۰ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔
انیتا راٹھوڑ کی عمر ۲۵ سال ہے اور وہ ابھی تک چار بچوں کی ماں بن چکی ہیں۔ ان کا تعلق لمباڈی برادری سے ہے، جو تلنگانہ میں درج فہرست قبائل کے طور پر درج ہے۔ وہ ان ہزاروں مہاجر مزدوروں میں شامل ہیں، جو حیدرآباد کی متمدن برادریوں کے درمیان کام کرتے ہیں۔ حیدرآباد مہاجر مزدوروں کو راغب کرنے والے ملک کے سرفہرست پانچ شہروں میں شامل ہے۔ لمبے وقت تک کام کرنے کے لیے انہیں اپنے پیچھے نہ صرف اپنے بڑے کنبے کو چلّ گِدّ تانڈہ میں اور اپنے بچوں کو اپنے والدین کے پاس اپنے آبائی گاؤں مینیلی میں چھوڑنا پڑا ہے، بلکہ اپنے خوابوں کو بھی ترک کرنا پڑا ہے۔
ان کا دن روزانہ صبح تقریباً ۴ بجے کھانا پکانے، کپڑے دھونے، اور گھر کی صفائی سے شروع ہوتا ہے۔ صبح ۵:۳۰ بجے وہ رنگا ریڈی ضلع میں واقع لنگم پَلّی کے لیے بس میں سوار ہوتی ہیں، اور وہاں سے ۲۰ روپے آٹو کرایہ ادا کر کے صبح ۶ بجے تک نلّ گنڈلا کی ہاؤسنگ سوسائٹی تک پہنچتی ہیں۔ تلنگانہ حکومت کی مہا لکشمی اسکیم، جو ۲۰۲۳ میں متعارف کرائی گئی تھی، خواتین کے لیے ریاستی ٹرانسپورٹ کی بسوں میں مفت سفر کی سہولت فراہم کرتی ہے، اور اس سے انیتا کو اپنے کام کے مقام تک سفر کے خرچ کے کچھ حصے کی بچت ہو جاتی ہے۔














