باگ دُوار پرائمری اسکول کی پرانی عمارت کے سامنے کھڑے ہو کروہ اپنی طالب علمی کے دنوں کو یاد کرتے ہیں۔ بچپن میں ان کے اندر کبھی پڑھائی کا شوق پیدا نہیں ہوا۔ اپنے گاؤں کے زیادہ تر بچوں کی طرح وہ بھی دوپہر کو اپنا پسندیدہ کھانا کھانے کی امید میں ڈیڑھ کلومیٹر پیدل چل کر اپنے گھر باپتیل گاؤں سے اس اسکول تک کا مشکل سفر طے کرتے تھے۔
’’میں اسکول میں ہر ایک کے ساتھ لڑتا رہتا تھا، اور سبق بالکل یاد نہیں کرتا تھا۔ اساتذہ ہر روز میری پٹائی کرتے تھے۔ میں نے پانچویں جماعت میں پڑھائی چھوڑ دی۔ اُس وقت میرے ذہن میں بمبئی (ممبئی) کے خیالات کا غلبہ تھا،‘‘ ۲۴ سالہ نبین ٹھاکر بتاتے ہیں۔ فی الحال (اگست ۲۰۲۴ میں) وہ اپنے گھر ایک شادی میں شرکت کے لیے اپنے خوابوں کے شہر سے تپن بلاک میں واقع اپنے گاؤں واپس آئے ہیں۔ نبین گزشتہ ۱۱ سالوں سے اب تک ممبئی میں یومیہ مزدور کے طور پر تعمیری مقامات پر کام کر رہے ہیں۔
’’اُن دنوں کھاری پاڑہ کے آس پاس کے زیادہ تر بچے، جن کا تعلق عمومی طور پر زرعی مزدوروں اور یومیہ مزدوروں کے کنبوں سے تھا، پرائمری اسکول کے دوران ہی پڑھائی چھوڑ دیتے تھے اور کام کی تلاش میں لگ جاتے تھے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’لیکن وہاں کوئی تھا ہی نہیں۔ خواہ وہ آٹھ یا نو سال کے لڑکے ہوں یا پچاس سال کو پہنچ چکے بزرگ، سب کے سب تلاش معاش میں باہر چلے جاتے تھے۔ ہمارے پاس دوسرے متبادل تھے ہی کیا؟‘‘ نبین پوچھتے ہیں۔ ان کا لہجہ کچھ ایسا ہے، جیسے وہ ’مہاجرت کیوں کی جاتی ہے‘ کے سوال پر ایک اور جذباتی سوال کھڑا کر رہے ہوں۔
























