کسان اسینو میسیسینو میسے بتاتی ہیں، ’’ہم عموماً جب کھیتوں میں کام کر رہے ہوتے ہیں تو دوپہر کے کھانے کے لیے گابی پکاتے ہیں۔‘‘ ہلکے مصالحے والے اس سالن نما پکوان کے لیے صرف چند اجزا درکار ہوتے ہیں، جو سبھی ناگالینڈ کے خونوما میں مقامی طور پر دستیاب ہیں اور کھیتوں میں کام کرنے والے کسانوں کی آسان رسائی میں ہوتے ہیں۔
’’کبھی کبھار ہم گالھو بھی بناتے ہیں،‘‘ وہ مزید کہتی ہیں۔ اس سے مراد چاول، تازہ پتوں والی سبزیوں یا جنگلی سبزیوں، مقامی مصالحوں اور گوشت، مثلاً دُھویں میں خشک کیے گئے خنزیر کے گوشت یا گائے کے گوشت کو ملا کر دلیہ جیسی گاڑھی شکل میں پکایا جانے والا ایک غذائیت بخش پکوان ہے۔ ’’یہ انگامی لوگوں کی ایک خاص ڈش ہے،‘‘ ۳۶ سالہ اسینو، پاری کو بتاتی ہیں۔
سردیوں کی ایک خوشگوار صبح اسینو اپنی قریبی دوست یُتسونو میرو کے ساتھ ایک تنگ راستے پر چل رہی ہیں جو خونوما کے جھوم کھیتوں کی طرف جاتا ہے۔ ناگالینڈ میں پہاڑی ڈھلوانوں پر جھوم (منتقل کاشت کاری) عام طور پر کی جاتی ہے۔ راستے میں چلتے ہوئے دونوں اچانک جھک کر مختلف سبزیاں اور پودوں کے حصے توڑنے لگتی ہیں، اور ساتھ ساتھ باتیں اور ہنسی مذاق بھی کرتی رہتی ہیں۔ ’’ہم بہت اچھے دوست ہیں،‘‘ اسینو کہتی ہیں۔ ’’جب ہم ساتھ ہوتے ہیں تو کافی خوش رہتے ہیں۔‘‘ اسی لیے بچپن کی یہ سہیلیاں اپنے وقت کو اس طرح ترتیب دیتی ہیں کہ وہ اپنے جھوم کھیتوں میں ایک ساتھ کام کر سکیں۔
یُتسونو (۴۲) اپنے ہاتھ میں تازہ جمع کی گئی جڑی بوٹیوں کے گٹھے کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور تینیدی زبان میں ان کے نام بتاتی جاتی ہیں: گاتھا (فِش منٹ، ہوتینیا کورڈاٹا)، گاگی (ہمالیائی ناٹ ویڈ، کوئینیگیا پولی استاچیا)، کھامہو(جنگلی پیرِلا فروٹسنس) اور گاکرا (جاوا واٹر ڈراپ ورٹ، اوئے ننتھے جوانیکا)۔
’’ہم گاتھا کو شاہی مرچ کے ساتھ پیس کر چٹنی بنائیں گے، جسے گابی کے ساتھ کھایا جائے گا، جبکہ باقی سبزیاں گابی میں ڈال دی جائیں گی۔ جو کچھ بچ جائے گا، اسے ہم گھر لے جائیں گے اور بعد میں پکا لیں گے،‘‘ وہ تفصیل سے بتاتی ہیں۔






