باورچی خانہ کا چولہا جل چکا ہے۔ تھیامونگلا کے پاس وقت برباد کرنے کی فرصت نہیں ہے۔ وہ باورچی خانہ میں تیزی سے ادھر ادھر گھومتی ہیں۔ آج صبح اپنے باغیچہ سے توڑی گئی میپانگ (اربی/رتالو) کی پتّیاں، لہسن کا ہرا ساگ، آج ہی جنگل سے لائی گئی تھوٹو پودے کی پتیاں، کیکڑے کا پیسٹ اور کئی دوسری چیزیں اکٹھا کرتی جاتی ہیں۔
چانکی کی ۵۵ سالہ کسان آج میپانگ مِنگ بنانے جا رہی ہیں، جو آؤ ناگا برادری کا ایک خاص پکوان ہے۔ ’’یہ روسُپ سے بالکل الگ پکوان ہے، جو ہمارے قبیلہ میں عام طور پر بننے والی ایک زیادہ مقبول اور کئی سبزیوں سے مل کر بننے والی سبزی ہے،‘‘ تھیامونگلا لُنجاری چانکی زبان میں بتاتے ہوئے کہتی ہیں۔ وہ میپانگ مِنگ کو اپنے کھیتوں میں اُگنے والے مقامی چاول اور ساتھ میں مقامی چکن فرائی کے ساتھ پیش کریں گی۔
میپانگ مِنگ کو اس کا خاص ذائقہ فراہم کرنے والی دوسری اشیاء میں نمک، ہری مرچ، ٹماٹر، مشیگن (سیچوان پیپر) کی پتیاں، تیجنگ لہسن (مقامی پتّیدار لہسن)، ادرک کی پتیاں اور جنگپنگ نتسو (خمیری کیکڑا پیسٹ) شامل ہیں۔ وہ موسم کے حساب سے تازہ سبزیاں بھی استعمال کرتی ہیں۔
چانکی گاؤں کی آبادی ۲۴۸۶ ہے (مردم شماری ۲۰۱۱)، اور یہاں کے زیادہ تر لوگ آؤ ناگا (درج فہرست ذات کے طور پر درج) برادری سے ہیں۔ چانکی زبان صرف اسی گاؤں کے لوگ بولتے ہیں۔
تھیامونگلا، چانکی کی دیگر خواتین کی طرح، دھان کے کھیتوں، جنگل کے راستوں اور آبی ذخائر کے ارد گرد – کئی بار تو دو گھنٹے تک کا سفر کر کے میپانگ، تھوٹو اور دیگر مقامی پکوانوں کے لیے اشیاء جمع کرنے جاتی ہیں۔
وہ پاری سے کہتی ہیں، ’’پرانے دنوں میں جنگل سے کھانے کی چیزیں اکٹھا کرنا بہت ضروری تھا، کیوں کہ باہر سے یہ اشیاء لانا آسان نہیں تھا۔‘‘ ان کی نسل کی عورتوں کے لیے مقامی اشیاء کا استعمال فطری ہے۔ ’’ہم وہی کھاتے تھے جو اپنے جھوم کھیتوں، دھان کے کھیتوں اور کچن گارڈن میں اُگاتے تھے؛ آج کی طرح نہیں تھا کہ پاس کے بازاروں سے بھی خرید لیں۔‘‘
کھانے کی چیزیں اکٹھا کرنے کا کام عموماً عورتیں کرتی ہیں، حالانکہ مرد بھی جنگل یا کھیت سے لوٹتے وقت کئی چیزیں لے آتے ہیں۔ ’’ہم نے یہ ہنر اور کون سی چیز کھانے لائق ہے اور کون سی نہیں، اس کا علم اپنے والدین یا تجربہ کار لوگوں کے ساتھ جا کر سیکھا۔ نئی نسل کھیتی کرنے یا جنگل سے چیزیں اکٹھا کرنے کے بجائے دوسری نوکریوں میں کمائی کے لیے جا رہی ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ اسی درمیان، وہ دیماپور بازار سے پڑوسی کے ذریعہ لائے گئے آئیسٹر مشروم اور قیمتی تھوٹو کو استعمال کے لیے تیار کرتی ہیں۔ ’’تھوٹو، کھانے کے لیے میپانگ [رتالو کی پتیوں] کے ساتھ بہت اچھا رہتا ہے۔‘‘
ایک خاص مرکب ہے کیکڑے کا پیسٹ، جو آؤ ناگا کھانے میں بڑے پیمانہ پر استعمال ہوتا ہے۔ تھیامونگلا فخر سے کہتی ہیں، ’’چانکی میں بنا کیکڑا پیسٹ سب سے اچھا مانا جاتا ہے اور اس کی بہت مانگ رہتی ہے۔‘‘
جیسے ہی وہ مرتبان کھولتی ہیں، کمرہ میٹھی، مچھلی جیسی خمیر شدہ مہک سے بھر جاتا ہے۔ جنگپنگ نتسو آؤ ناگا برادری کی خاصیت ہے، جسے کھیتوں کے پانی میں ملنے والے کیکڑوں سے بنایا جاتا ہے۔ کیکڑوں کو بھون کر ان کے خول اتارے جاتے ہیں، پھر انہیں کالے تِل کے ساتھ کوٹ کر اچھی طرح ملایا جاتا ہے اور کیلے کے پتّوں میں لپیٹ کر کچھ دنوں تک چولہے کے پاس خمیر اٹھنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ آؤ ناگا پکوانوں کی کئی چٹنیوں، شوربہ اور سالن میں ذائقہ کا ایک لازمی مرکب ہے۔
بے شمار صلاحیتوں کی مالک تھیامونگلا ایک ماہر کمہار بھی ہیں اور کل وقتی کسان بھی۔ پڑھیں: چانکی کی خواتین کمہار
وہ کہتی ہیں کہ اس سال (۲۰۲۵) موسم انتہائی بے ترتیب رہا، اور تودے کھسکنے کے متعدد واقعات نے دھان کے کھیتوں کو برباد کر دیا۔ ’’میرے کھیت کا ایک حصہ، جس میں نرسری بھی شامل تھی، مٹی کا تودہ کھسکنے کی وجہ سے خراب ہو گیا۔ اس لیے اب اپنے جھوم کھیتوں میں، میں زیادہ تر ادرک اُگا رہی ہوں، کیوں کہ بیچنے پر اس کی قیمت زیادہ ملتی ہے۔‘‘
وہ کھانا پکانے کے لیے اپنے ہاتھ سے بنایا ہوا چانکی کا مٹی کا برتن استعمال کر رہی ہیں، کیوں کہ ان کا کہنا ہے کہ یہ پکوان انہی مقامی برتنوں میں سب سے لذیذ بنتا ہے۔ سرسوں کے تیل کی چھنچھناہٹ اور خمیر اٹھے کیکڑوں کی تیز، پکی ہوئی مہک باورچی خانہ میں گھومنے لگتی ہے۔ اب ہم سے کھانے کا اور انتظار نہیں ہو پائے گا۔


