’کتنے کی مچھلی ہے، بول مچھواری‘ – گیت کا یہ مکھڑا روایتی طور پر شادیوں میں گایا جاتا ہے، جو اس طرز کی افادیت اور وقت کے موافق ڈھل جانے کی عمدہ صلاحیت کی مثال ہے۔ مُندرا تعلقہ کے ماہی گیر جُما واگھیر کے ذریعہ گایا گیا یہ گیت، روایتی طور پر خوشی کے موقعوں پر ہی گایا جاتا ہے۔ لیکن یہ برادری آج جن حالات سے گزر رہی ہے، ان سے اس گیت کو کئی نئے سماجی و سیاسی معنی حاصل ہوتے ہیں۔
واگھیر کا تعلق مسلم برادری سے ہے، جو اس علاقہ میں مچھلی پکڑنے کا کاروبار کرتے چلے آ رہے ہیں، اور کچھّ کی خلیج سے ان کا صدیوں پرانا رشتہ ہے۔ اس ماہی گیر برادری کے مرد، عورتیں اور بچے اپنے اپنے گاؤوں سے مُندرا شہر کے پاس مچھلی پکڑنے کے لیے آتے ہیں اور سمندر کے کنارے معاش حاصل کرنے کے لیے تقریباً ۸ سے ۹ مہینے تک عارضی جھونپڑیوں میں رہتے ہیں۔ مرد مچھلیاں پکڑ کر لاتے ہیں، جب کہ عورتیں مچھلیوں کو چھانٹتی، سُکھاتی اور بیچتی ہیں۔
سال ۲۰۰۰ میں حالات بدلنے لگے، جب ریاستی حکومت نے اس ساحلی علاقہ میں صنعت کاری اور نجکاری کو فروغ دینا شروع کیا۔ تیل ریفائنریوں، سیمنٹ اور فرٹیلائزر پلانٹس، نمک کے میدانوں، باکسائٹ اور چونا پتھر کی کانکنی، اور نئے ٹرانسپورٹیشن سے متعلق سرگرمیوں سمیت تمام منصوبوں نے برادری کا بسیرا مشکل میں ڈال دیا۔
اب تعمیراتی کاموں اور آلودگی کے سبب وہ مچھلی پکڑنے کی جگہ کھونے لگے تھے؛ اس ساحلی علاقہ کا ایکو سسٹم اور قدرتی آبی بہاؤ خطرے میں پڑ گیا تھا۔ واگھیروں کی آمدنی میں زبردست گراوٹ آئی تھی، کیوں کہ اب وہ زیادہ مچھلیاں نہیں پکڑ پا رہے تھے، اور انہیں اس کے لیے سمندر میں مزید اندر تک جانا پڑ رہا تھا۔ اس کے ساتھ ہی، مچھلی پکڑنے کا پگڑیا طریقہ جیسا ان کا روایتی علم بھی کھونے لگا۔
تقریباً ایک دہائی پہلے، اس علاقہ کے ماہی گیروں نے عالمی بینک کی نجی سرمایہ کاری ایجنسی، انٹرنیشنل فائننس کارپوریشن (آئی ایف سی) کے خلاف ایک بڑے کوئلہ پلانٹ کو مالی مدد دینے کی وجہ سے امریکی وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کرنے کی کوشش بھی کی تھی، جس کی وجہ سے ان کا معاش تقریباً برباد ہو گیا۔ علاقہ میں جاری ’ترقی‘ نے اس برادری کو مزید نقصان پہنچایا، جو پہلے سے ہی کچھّ میں سماجی اور تعلیمی اعتبار سے پس ماندہ طبقات (ایس ای بی سی) کے درمیان حاشیہ پر زندگی بسر کر رہی ہے۔



