روشن سداشیو کولے اپنے معمولی سے اسمارٹ فون پر اپنا فیس بک اکاؤنٹ کھولتے ہیں اور پرانی اطلاعات (نوٹیفیکیشنز) کو اسکرول کرتے ہوئے ایک ایسی اطلاع پر رک جاتے ہیں جو ان کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل دیتی ہے۔ وہ پاری کو اپنے خوفناک تجربے کے دوسرے مرحلہ کی داستان سنا رہے ہیں۔
منتھور گاؤں میں واقع ان کے گھر پر فیملی کے افراد ان کے ارد گرد بیٹھے ہوئے ہیں، جو بدحال اور تھکے ماندے دکھائی دے رہے ہیں، اور خاموشی سے ان کی باتیں سن رہے ہیں۔ وہ ابھی تک اس صدمے سے باہر نہیں نکل پائے ہیں۔
روشن بتاتے ہیں کہ اکتوبر ۲۰۲۳ کی ایک صبح، منہ اندھیرے پانچ بجے جب گھر کے سارے لوگ سو رہے تھے، تین ساہوکار (قرض دہندہ) ایک کار میں سوار ہو کر ان کے گھر آ پہنچے۔ ان کے ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں۔ انہوں نے دروازے پر دستک دی، اور انتہائی بھدی گالیاں دیتے ہوئے مبینہ طور پر کہا کہ روشن پر ان کے بہت سے پیسے واجب الادا ہیں اور مطالبہ کیا کہ فوراً وہ پیسے ادا کر دیں۔
وہ بار بار ان کے گھر پر آتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روشن پر اب بھی ۱۶ لاکھ روپے واجب الادا ہیں۔
لیکن روشن کے لیے اب قرض لینے کے سبھی دروازے بند ہو چکے تھے۔ گھر کے تمام اثاثے یا تو گروی رکھے جا چکے تھے یا فروخت کیے جا چکے تھے۔ ملازمت تلاش کرنے کی ان کی تمام کوششیں بھی ناکام ہو چکی تھیں۔
’’میرا قرض واپس کرنے کے لیے اپنا گردہ بیچ دو، ورنہ میں تمہارے گھروالوں کو نشانہ بناؤں گا،‘‘ روشن کو یاد ہے کہ ایک ملاقات کے دوران چھ ملزم ساہوکاروں میں سے ایک نے ان سے کہا تھا۔
ساہوکار نے انہیں گردہ عطیہ کرنے والوں کے ایک فیس بک گروپ کے بارے میں بتایا اور ان سے اس میں شامل ہونے کو کہا۔
’’میں شروع میں [اپنا گردہ بیچنے سے] گریزاں تھا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’لیکن جب وہ ہتھیاروں اور لاٹھیوں سے لیس ہوکر [پیسوں کی] وصولی کے لیے اکثر گھر آنے لگے تو ہم سب خوفزدہ ہو گئے۔ اس کے بعد میں نے اس متبادل پر غور کرنا شروع کر دیا۔‘‘
نومبر ۲۰۲۳ میں ایک دن انہوں نے (فیس بک پر کڈنی ڈونر کمیونٹی گروپ کے) جوائں بٹن پر کلک کر دیا۔ ایک دن کے اندر ہی روشن کو ایک پیغام موصول ہوا، جس میں انہیں واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے کہا گیا تھا۔ ’’مجھے شک بھی تھا اور خوف بھی، لیکن پھر بھی میں نے اس گروپ میں شمولیت اختیار کر لی،‘‘ وہ پاری کو بتاتے ہیں۔
اس کے بعد سے یہ فیس گروپ ہٹا دیا گیا ہے۔











