’’میں خوش قسمت ہوں،‘‘ روشن سداشیو کولے پاری سے کہتے ہیں۔ خوش قسمت اس لیے کہ وہ زندہ ہیں اور اپنے گھر پر ہیں۔
اس کہانی کی ابتدا پانچ سال قبل اس وقت ہوئی، جب منتھور گاؤں کے اس ۳۴ سالہ چھوٹے کسان کی ۱۲ جرسی گائیں لمپی اسکن (جلد کی گانٹھ) کی بیماری کی زد میں آ گئی تھیں۔ یہ مارچ ۲۰۲۱ کا زمانہ تھا۔ پورے مہاراشٹر میں مویشی دم توڑ رہے تھے اور اسی وقت کووڈ۔۱۹ کی دوسری لہر پورے ملک میں تباہی مچا رہی تھی۔
’’میں نے ان کے علاج پر بہت پیسہ خرچ کیا،‘‘ روشن یاد کرتے ہیں۔ ’’لیکن وہ صحت یاب نہ ہو سکیں۔‘‘
چھ گائیں مر گئیں۔ دودھ کی پیداوار کم ہو گئی۔ ڈیری سے ہونے والی آمدنی بھی رک گئی۔ لیکن اخراجات بدستور جاری رہے۔ چندر پور کی جنگلات سے مالا مال ناگ بھیڑ تحصیل کے اس چھوٹے کسان کے پاس اپنی باقی چھ گایوں کے لیے دوائیں اور ویکسین خریدنے کے لیے پیسے نہیں تھے۔
وبائی مرض کے باعث پیدا ہونے والے نقدی کے بحران میں بینکوں سے قرض حاصل کرنا دشوار ہو گیا تھا۔ بینکنگ نامہ نگار کے طور پر کام کرنے والے ایک دوست کے اصرار پر روشن نے قریب ہی میں واقع برہم پوری قصبہ کے ایک نجی ساہوکار سے ایک لاکھ روپے کے غیر رسمی قرض کے لیے رابطہ کیا۔
انہوں نے سوچا کہ ان کا فوری بحران ٹل گیا ہے۔
’’لیکن اصل مصیبت تو اب شروع ہوئی تھی،‘‘ وہ یاد کرتے ہیں۔
روشن نے مارچ ۲۰۲۱ میں اپنی گایوں کے لیے حیات بخش ادویات خریدنے کی خاطر غیر رجسٹرڈ ساہوکاروں کے شکنجے میں پھنس کر ایک لاکھ روپے کا قرض لیا تھا۔ یہ قرض بڑھتے بڑھتے ۵۰ لاکھ روپے تک جا پہنچا۔ قرض کے اس بوجھ نے اس ڈیری کسان کو انسانی اعضاء کی غیر قانونی اسمگلنگ کے ایک ایسے خوفناک دلدل میں دھکیل دیا، جہاں بالآخر انہیں اپنا ایک گردہ گنوانا پڑا۔ اس کے بعد وہ بین الاقوامی سائبر کرائم کے ایک ریکٹ کے جال میں بھی الجھ کر لاؤس میں جا پھنسے۔















