میرا نام کے مکیش ہے۔ میں ویلورضلع کے گورنمنٹ ماڈل اسکول میں گیارہویں جماعت کا طالب علم ہوں، جہاں میں اختیاری مضمون کے طور پر فوٹوگرافی سیکھتا ہوں۔ میں نے سیکھا ہے کہ کیمرہ کیسے استعمال کرنا ہے اور اس کے ذریعہ کن چیزوں کی دستاویز سازی کرنی ہے۔ میں پتھر کی کان میں بطور ڈرلر کام کرنے والے اپنے ۵۱ سالہ والد کَتیر وِیلو کے جیسے محنت کش لوگوں کی زندگیوں کی جدوجہد کو اپنے کیمرے میں قید کرتا ہوں۔
جب میرے والد کام پر گئے ہوتے ہیں، تب میری ماں وسنتی کے گھر کا انتظام و انصرام کرتی ہیں اور میری اور میری ۱۲ سالہ بہن درشیکا کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ ہم اپنے والد سے ۱۵ دنوں میں ایک بار ملتے ہیں، جب وہ ایک یا دو دن کے لیے گھر واپس آتے ہیں۔ وہ عموماً کافی تھکے ہوئے اور نڈھال رہتے ہیں۔ لیکن یہ واحد وقت ہوتا ہے جب میں ان کے ساتھ کچھ وقت گزار پاتا ہوں۔
جب وہ گھر پر ہوتے ہیں تو ان کے کام سے متعلق جانکاری حاصل کرنے کے لیے میں ان سے بہت سارے سوال پوچھتا ہوں، اور وہ ہمیشہ بڑے صبر و تحمل کے ساتھ جواب دیتے ہیں۔ اس کے باوجود میں ان کے کام کی نوعیت کو پوری طرح نہیں سمجھ پایا تھا۔ پھر ایک دن ہماری فوٹوگرافی کلاس کے استاد شری پتی کی حوصلہ افزائی کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ میں ان کے ساتھ ان کے کام کے مقام پر جاؤں گا۔ اس دن میرا کیمرہ بھی میرے ساتھ تھا۔
میں نے جو کچھ دیکھا، اسے قلم بند کیا۔ یہ میرے والد کی زندگی کی کہانی ہے، جو چند لفظوں اور بہت سی تصویروں کے سہارے بیان کی گئی ہے۔























