’’اگر آپ جنگل میں گھونگھو پہنیں تو آپ پر کبھی بجلی نہیں گرے گی،‘‘ جھارکھنڈ کے گملا ضلع میں واقع کوجام گاؤں کی رہائشی شُکھنی اسور کہتی ہیں۔ گھونگھو ایک طرح کی چھتری ہے جو اس علاقہ میں عام طور پر پائی جانے والی بیل، مالو پودے (پھنیرا وہلی) کے پتّوں سے بنائی جاتی ہے۔
گھونگھو سال بھر استعمال ہوتا ہے۔ گرمیوں میں یہ لو (گرم ہواؤں) سے بچاتا ہے، سردیوں میں ٹھنڈی ہوا سے، اور برسات میں بارش سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ گنبد نما گھونگھو سر پر رکھنے سے پہننے والے کے دونوں ہاتھ کام کرنے کے لیے آزاد رہتے ہیں۔
شُکھنی (۵۶) نے بچپن میں اپنی ماں سے گھونگھو بنانا سیکھا تھا۔ ’’پہلے ہر کوئی جنگل میں اگنے والے مالو کے پتّے جمع کرتا تھا اور گھونگھو بناتا تھا۔ مگر اب کم لوگ اسے استعمال کرتے ہیں، اور اس سے بھی کم لوگ اسے بناتے ہیں،‘‘ وہ مزید کہتی ہیں۔
شُکھنی کا تعلق اسور برادری سے ہے، جسے ریاست میں ’خصوصی طور پر کمزور قبائلی گروہ (پی وی ٹی جی)‘میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی فیملی کے پاس اپنی ۱۰ ایکڑ زمین ہے، جہاں زیادہ تر دھان، مکئی اور گنڈلی (چھوٹا باجرا) کی کاشت کی جاتی ہے۔
بشن پور فاریسٹ رینج، شُکھنی کے تین کمروں والے کچے گھر سے بمشکل ۵۰۰ میٹر کے فاصلہ پر شروع ہو جاتی ہے، جہاں ان کی فیملی کے ۱۲ افراد رہتے ہیں۔ کوجام کے باشندے ایندھن کی لکڑی، پھل، چرائی کی زمین اور دیگر ضروریات کے لیے اسی جنگل پر انحصار کرتے آئے ہیں۔ شُکھنی کہتی ہیں، ’’ہمرا روزی روٹی سب یہی ہے۔‘‘
























