ناگالینڈ کی سرحد سے متصل، آسام کے جورہاٹ ضلع میں تائی تورونگ برادری کا ایک پُرسکون اور دلکش گاؤں پوہوکوتیا شیام واقع ہے، جسے سرکاری ریکارڈ میں تیپومیا ہابی گاؤں کے نام سے جانا جاتا ہے۔* پرانی بل کھاتی کچی سڑکیں، گھنی سرسبز نباتات، روایتی سانگ گھر (کھمبوں پر تعمیر شدہ مکانات)، چھوٹے باغات اور موسم کی سختیوں سے بوسیدہ بانس کی باڑیں مل کر اس گاؤں کے دلکش اور پاکیزہ منظرنامہ کو تشکیل دیتی ہیں۔ اسی گاؤں میں ۷۷ سالہ کسان اننت تورونگ رہتے ہیں، جو اپنی مادری زبان تائی تورونگ میں الفاظ کا ایک منفرد ’ذخیرہ‘ تعمیر کر رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں، ’’زبان پانی کی مانند ہے، یعنی ایک بہتا ہوا دریا۔ یہ کبھی ایک جیسی نہیں رہتی، لیکن اسے اچانک بدل کر مر نہیں جانا چاہیے۔‘‘ اسی یقین کے سہارے یہ چھوٹے درجہ کے کسان گزشتہ پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے اپنی مادری زبان کی دستاویز بندی میں مصروف ہیں۔ وہ اپنی تورونگ برادری کی جڑوں پر تحقیق کرتے ہیں، الفاظ جمع کرتے ہیں، ان کی اصل، قواعدِ زبان، متعدد ہجرتوں اور ثقافتی امتزاج کے زبان کی ساخت اور استعمال پر پڑنے والے اثرات کو سمجھتے ہیں، اور ان موضوعات پر کتابوں، رسائل اور اخبارات میں لکھتے ہیں۔
یہ سب کچھ وہ اپنی ذاتی لاگت پر کرتے ہیں، اس معمولی آمدنی سے جو انہیں اپنی پانچ بیگھہ (۶ء۱ ایکڑ) زمین سے حاصل ہوتی ہے۔ ایک نجی امدادی اسکول میں چالیس برس سے زیادہ عرصے تک بطور ’غیر سرکاری‘ استاد اور منتظم خدمات انجام دینے کے باوجود انہیں کبھی تنخواہ نہیں ملی۔ جب بالآخر سرکاری امدادی گرانٹ منظور ہوئی اور وہ کلرک کی تنخواہ کے حقدار بنے، تب ان کی ریٹائرمنٹ میں صرف تین ماہ باقی رہ گئے تھے۔ لیکن اپنی زبان کو بچانے کے مشن میں کوئی بھی رکاوٹ ان کے راستے میں حائل نہ ہو سکی۔










