’’یہ وہ جگہ ہے جہاں میں ایک طرح سے برف میں دب ہی گیا تھا۔ کئی لوگوں نے سمجھا کہ شاید میں مر گیا ہوں۔‘‘
شرپ، تانگ لانگ لا میں ۱۷ ہزار ۴۸۰ فٹ کی بلندی پر ہو رہی برف باری کو یاد کرتے ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں، ’’دوسرے مزدور مجھ کو بچانے کے لیے دوڑے۔‘‘ شرپ کی قسمت اچھی تھی کہ فوجی اسپتال نزدیک تھا جس کی وجہ سے انہیں جلد علاج کی سہولت مل گئی۔
لداخ میں اونچے کوہستانی سلسلوں میں کام کرنے والے شرپ جیسے سڑک کی تعمیر سے وابستہ مزدوروں کو اکثر غیر یقینی موسم اور اس سے جڑے ہوئے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ درجۂ حرارت اکثر صفر سے نیچے چلا جاتا ہے، مگر گزشتہ دو دہائیوں میں اور بھی کچھ ہوا ہے۔ لیہہ ضلع کے گیا گاؤں کے رہنے والے شرپ کہتے ہیں، ’’ماحولیاتی تبدیلی کے سبب برف باری تاخیر سے اور حد سے زیادہ ہونے لگی ہے۔ اس کی وجہ سے ہمیں مزید خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘‘
شرپ اور ان کی ٹیم جیسے مزدوروں کو ذمہ داری ملی ہے کہ وہ اس علاقہ کے دوسرے سب سے اونچے درّہ تانگ لانگ لا کو پھر سے کھولیں۔ کڑاکے کی ٹھنڈ اور موسم کی مار کے سبب اکتوبر سے مئی تک یہ درّہ بند رہتا ہے۔ درّہ کھلنے سے لیہہ سے منالی قومی شاہراہ پر آمد و رفت ممکن ہو پاتی ہے۔ تقریباً ۴۲۸ کلومیٹر کا یہ سفر چار درّوں سے ہو کر گزرتا ہے، جن میں تانگ لانگ لا سب سے اونچا ہے۔ حالانکہ، یہاں سے نظارہ انتہائی خوبصورت دکھائی دیتا ہے، مگر تیز ہوا اور ٹھنڈ کسی کو بھی یہاں ۱۰-۱۵ منٹ سے زیادہ رکنے یا ادھر ادھر دیکھنے نہیں دیتی۔


















