ہریانہ کے دیہی علاقوں میں حقہ ہمیشہ سے اجتماعی میل جول کے مرکز میں رہا ہے۔ ’’حقہ کے سہارے پنچایت چلتی ریا کرتی [پنچایت حقہ کے سہارے چلتی تھی]‘‘ روہتاس یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ وہ گاؤں کے چوک میں اس عام منظر کو دیکھتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں۔
’’چائے یا پانی کے برعکس حقہ اس لیےزیادہ عملی شے ہے، کیونکہ آپ اس میں ایک بار تمباکو بھریں، ایک بار جلائیں، اور یہ سارا دن چلتا رہتا ہے۔ پانچ سے دس لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر گھنٹوں آرام سے حقے کے کش لگا سکتے ہیں۔ اس سے وقت گزارنے میں بھی مدد ملتی ہے،‘‘ روہتاس کہتے ہیں (وہ صرف یہی نام استعمال کرتے ہیں)۔
چالیس سالہ حقہ ساز یہ کہتے ہوئے مسکراتے ہیں: ’’اب ہر گھر اپنا خود کا چوپال بن گیا ہے، اور ہر گھر میں اپنا حقہ ہے۔‘‘ کام کے وقفہ کے دوران پاری سے بات کرتے ہوئے وہ حقہ کا ایک کش بھی کھینچتے ہیں۔ یہ عادت ان میں ۱۲ سال قبل اس ہنر کے شروع کرنے کے بعد پڑی تھی۔
خیال کیا جاتا ہے کہ حقہ کا رواج ۱۶ویں صدی کے شمالی ہندوستان میں عہد مغلیہ کے دوران ہوا تھا۔ کچھ ذرائع کے مطابق تیسرے مغل شہنشاہ اکبر نے سب سے پہلے اس کا استعمال کیا تھا۔ تاہم دوسرے تاریخی ذرائع سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی ابتداء کی جڑیں وسطی اور مغربی ایشیا میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔
بہرکیف، یہ ہریانہ کے لوگوں کی روزمرہ کی زندگی کی ایک پسندیدہ روایت ہے، ’’ہماری سنسکریتی (ثقافت) کا حصہ ہے،‘‘ دھرم بیر کہتے ہیں۔ ’’بڑے بڑے فیصلے حقہ کے کش پر لیے جاتے ہیں۔‘‘




















