بھادَر بھوپا کہتے ہیں، ’’ہریانہ، پنجاب ہوں لیگے جیسلمیر تک سارو دیش مہارو پگا ہوں ناپیڈو ہے [ہم نے ہریانہ اور پنجاب سے لے کر جیسلمیر تک ملک کے تمام راستے پیدل ناپ رکھے ہیں]۔‘‘ بھادَر (۶۵) شمال مغربی راجستھان میں اپنے گھر کے قریب ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں، ’’ایسی کوئی جگہ نہیں بچی جسے ہم نے نہ دیکھی ہو۔‘‘
گجرات اور راجستھان کی خانہ بدوش بھوپا برادری سے تعلق رکھنے والے بھادر نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ بانس اور ناریل کے خول اور تار سے تیار کردہ ساز ’راون ہتھا‘ بجاتے اور پورے ملک کا سفر کرتے گزارا ہے۔ ’’ہم ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے، وہاں قیام کرتے، اپنے فن کا مظاہرہ کرتے اور آگے بڑھ جاتے،‘‘ وہ پاری کو بتاتے ہیں۔
بالآخر، ۱۱ سال قبل بھادر اور ان کے پانچ بیٹوں نے چورو ضلع میں مستقل طور پر آباد ہونے کا فیصلہ کیا۔ ’’میں اس [خانہ بدوش] زندگی سے تھک گیا تھا، اس لیے میں نے ایک گاؤں میں سکونت اختیار کر لی۔‘‘ اب وہ دھیرواس بڑا میں رہتے ہیں۔ انہوں نے اس گاؤں کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ وہ یہاں سے بارہا گزرے تھے اور یہاں کے مقامی لوگ ان سے بخوبی واقف تھے۔ میرے دادا نے بھوپا گھرانے کو لوک فنکاروں کے طور پر ہمارے گاؤں سے گزرتے دیکھا تھا۔
یہ کنبہ اپنا تعلق نائک برادری (جو درج فہرست ذات میں شامل ہے) سے ظاہر کرتا ہے، حالانکہ راجستھان میں بھوپا برادری کو دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے زمرہ میں رکھا جاتا ہے۔ نائکوں کو بھی انہیں اپنی برادری کا حصہ تسلیم کرنے میں تامل ہے۔
شروع شروع میں دھیرواس بڑا میں زمین کی قیمتیں بہت زیادہ تھیں، اس لیے وہ ابتدائی دو برسوں تک گاؤں کے بیرونی حصے میں ہی آباد رہے۔ ’’بعد میں ہم نے سرپنچ [گرام پنچایت کے سربراہ] سے رابطہ کیا، اور انہوں نے ہمیں اس زمین تک رسائی دی،‘‘ بھادر بھوپا کے بیٹے بھنور لال بتاتے ہیں۔ ’’زمین کا یہ قطعہ تقریباً ایک بیگھہ اور تین بسوہ [تقریباً ۷۵ء۰ ایکڑ] پر مشتمل ہے۔‘‘
دھیرواس بڑا گاؤں کے مرکزی بس اسٹینڈ سے کھیتوں کی جانب جانے والی کچی سڑک پر جنوب کی سمت چلیں، تو آپ دو شمشان بھومیوں (گھاٹوں) کے پاس سے گزریں گے۔ پہلا شمشان سوامی برادری (جو دیگر پسماندہ طبقات میں شامل ہیں) کے زیرِ استعمال ہے، جبکہ کچھ فاصلہ پر واقع دوسرا شمشان درج فہرست ذاتوں کے لیے مخصوص ہے۔ یہ سڑک ان شمشان گھاٹوں کو سڑک کی دوسری جانب واقع دلت محلہ سے الگ کرتی ہے۔ اس سے آگے ہڑوار ہے، جہاں مردہ مویشیوں کو ٹھکانے لگایا جاتا ہے۔
اسی ہڑوار کے ایک حصہ پر بنے عارضی مکانات میں بھادر بھوپا کا تقریباً ۵۰ افراد پر مشتمل وسیع تر خاندان آباد ہے۔ وہ اب ایک مستحکم زندگی گزار رہے ہیں، جو ان کی سابقہ زندگی سے بالکل مختلف ہے۔










