اس کا نام کوئی نہیں جانتا تھا۔ وہ محلے کے لیے محض پاگل بوڑھا تھا۔ پاگل تھا، کیوں کہ وہ دن کو ہنستا اور راتوں کو روتا تھا اور سندھی یا اردو میں خود کلامی کیا کرتا تھا۔ اس کی زیادہ تر باتیں مہمل ہوا کرتی تھیں۔ سوائے غالب کے اشعار کے:
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
ایک لمحہ کے لیے جب آپ اسے شعر پڑھتے سنیں گے تو آپ عقل اور دیوانگی کے درمیان کے فاصلہ کو سمٹا ہوا دیکھیں گے۔
اس کا دہائیوں پرانا گھر اب محلے کے ایک کونے میں کھڑا ہے۔ ایک ویران، خستہ حال مکان کا ایک اونچا چبوترہ، جہاں وہ گلی کے دو کتوں کے ساتھ پہرہ دیتا تھا۔
کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کب اسے اپنا گھر بنانے آیا تھا۔ کسی کو اس کی عمر کا بھی اندازہ نہیں تھا۔ لیکن ہندوستان کے مڑے تڑے نقشے کی طرح کے جھریوں والے چہرے سے اس کا بڑھاپا عیاں تھا۔
اس سے متعلق کئی کہانیاں تھیں۔ کوئی کہتا کہ تقسیم کے دوران وہ اپنے خاندان سے بچھڑ گیا تھا، کوئی کہتا کہ بہت بعد میں ہونے والے فسادات میں اس کے خاندان کو قتل کر دیا گیا تھا۔ کوئی کہتا کہ وہ کبھی ایک تاجر ہوا کرتا تھا، جو اپنی بیوی اور دو بیٹوں کو ملک بدر کیے جانے کے بعد اپنی دولت اور عقل دونوں سے محروم ہو گیا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ داڑھی یا سر پر لپٹے گندے سبز کپڑے والا یہ شخص مسلمان تھا یا نہیں۔ یا وہ ایک ہندو تھا، جو ہر شام اپنے پھٹے پرانے گدے کے پاس ایک چھوٹے سے طاق میں چراغ جلاتا تھا، اور کچھ بڑبڑاتا تھا، جو دعا کی طرح لگتا تھا۔ اس بات سے قطع نظر کہ وہ کون ہے، انہوں نے اس پر ترس کھایا اور اسے بچا کچھا کھانا کھلایا۔ جب راشن حاصل کرنا مشکل تھا، تب بھی انہوں نے اپنے پاس جو کچھ تھا اس میں سے تھوڑا سا اسے بھی دیا۔
لیکن گزشتہ چند دنوں سے اس کے منہ میں ایک نوالہ بھی نہیں گیا تھا۔ سڑکوں پر اس کی رفتار تھم چکی تھی۔ گویا اسے زنجیروں میں جکڑ دیا گیا تھا۔ اس نے نہ تو چراغ جلائے اور نہ ہی غالب کو یاد کیا۔ وہ کسی کو اپنے قریب آنے کی اجازت دیے بغیر کونے میں اندر کی جانب اس وقت تک خود کو سمیٹتا رہا جب تک کہ وہ مر نہیں گیا۔ کچھ لولوں کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے اسے شکایت کرتے ہوئے سنا ہے کہ اس نے ایک خاردار تار نگل لیا تھا جو اس کے گلے میں پھنس گیا تھا۔ دوسروں کا خیال تھا کہ اس کی موت کی وجہ کووڈ کی بیماری تھی۔


