شری ناتھ سنگھ کھروار، ادَھورا کے گھنے جنگلات کی اس خاموشی کو یاد کرتے ہیں جب وہ اور ان کے دوست تیندو(ڈایوسپائروس میلانوکسیلون) کے پتے توڑنے کے لیے اس میں داخل ہوا کرتے تھے۔ وہ خاموشی جلد ہی ان کے ساتھی آدیواسیوں کی گفتگو اور گیتوں کی آوازوں میں گم ہو جایا کرتی تھی۔ ’’ہم گھر سے کھانا اور پانی ساتھ لاتے تھے۔ جیسے ہی ہماری بات چیت کا سلسلہ شروع ہوتا تھا، جنگل گویا زندہ ہو اٹھتا تھا،‘‘ شری ناتھ اس جشن جیسے ماحول کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
شری ناتھ (۴۷) تقریباً ڈھائی دہائی پرانی یادوں کو تازہ کرنے لگتے ہیں۔ ہم ادَھورا کی پہاڑیوں کی طرف جانے والی ایک بس میں ایک ساتھ بیٹھے ہیں۔ یہ بس بہار کے جنوبی ضلع کیمور کے پرسکون اور خوابیدہ قصبہ بھبھوا سے علی الصبح روانہ ہوئی تھی۔ ہمارے ساتھ سفر کرنے والے زیادہ تر مسافر وہ آدیواسی ہیں جو کام کے سلسلے میں باہر گئے تھے اور اب اپنے گاؤوں کو واپس لوٹ رہے ہیں۔
شری ناتھ اپنے گاؤں چنپورہ جا رہے ہیں۔ وہ بہار سے ہی الگ ہوئی ریاست جھارکھنڈ کے شہر پتراتو میں ایک سیمنٹ فیکٹری میں کام کرتے ہیں۔ اس سے قبل وہ دہلی اور مہاراشٹر جیسی دور دراز کی ریاستوں کی فیکٹریوں میں بھی کام کر چکے ہیں، لیکن اب وہ وہاں نہیں جاتے۔ ’’دہلی یا مہاراشٹر کے برعکس، پتراتو سے جلدی گھر پہنچنا زیادہ آسان ہے،‘‘ شری ناتھ مزید کہتے ہیں۔
سورج طلوع ہو چکا ہے، اور بس ایک بل کھاتی سڑک پر آہستہ آہستہ ادَھورا کی پہاڑیوں پر چڑھ رہی ہے۔ پورے راستے خشک ٹرپکی اور پت جھڑ کے مخلوط جنگلات اور سال کے بڑے بڑے درخت دکھائی دیتے ہیں، جو اپنے زردی مائل پتے گرا چکے ہیں اور ان کے ڈھانچے اپنی شاخوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پہاڑیوں پر چڑھنے کے چند ہی منٹوں کے اندر موبائل نیٹ ورک غائب ہو جاتا ہے؛ یہاں صرف بھارت سنچار نگم لمیٹڈ (بی ایس این ایل) کا نیٹ ورک کام کرتا ہے۔


















