جب لکشمن بیٹھا کے سالے نے فون کر کے انہیں بتایا کہ ان کی بیوی بیمار ہے، تو انہوں نے بغیر کسی تاخیر کے گھر جانے کے لیے ٹرین پکڑ لی۔
مہاجر مزدور لکشمن (۵۰) پتھر کاٹنے والی فیکٹری میں کام کرنے کے لیے اکثر بہار سے آندھرا پردیش جاتے تھے۔ جب انہیں بیوی کی بیماری کی خبر ملی، تو انہوں نے بغیر ریزرویشن والا ایک ٹکٹ لیا اور گھر کے لیے روانہ ہو گئے۔ دو دن بعد وہ مغربی چمپارن ضلع میں واقع اپنے گاؤں جِمری پہنچے۔ یہ سفر ۲۰۰۰ کلومیٹر سے بھی زیادہ کا تھا۔
آخرکار، گھر پہنچنے کے بعد انہوں نے راحت کی سانس لی، کیوں کہ ان کی بیوی کی صحت کافی بہتر ہو چکی تھی۔ لیکن، ان کی بیوی انہیں گلے لگا کر بے تحاشہ رونے لگی۔ ’’میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ میں نے بیوی سے پوچھا کہ وہ کیوں رو رہی ہے،‘‘ لکشمن اس واقعہ کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں۔
’’ایک شیر نے ہمارے بیٹے راج کمار کو مار ڈالا،‘‘ چنداوتی دیوی نے کانپتی ہوئی آواز میں بتایا۔ تقریباً ۴۷ سال کی چنداوتی اس خبر کو سن کر بیہوش ہو گئی تھیں، جس کے بعد لکشمن کو واپس بلایا گیا تھا۔






