رن کے جغرافیہ میں، جہاں سال کے زیادہ تر وقت درجہ حرارت کافی زیادہ رہتا ہے، مانسون کی بارش کا ہونا ایک بڑا واقعہ ہوتا ہے۔ بارش ہونے کے بعد شدید گرمی سے راحت ملتی ہے، جس کا لوگ بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔ یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ یہاں ہونے والی بارش اس سکون کا استعارہ بن جاتی ہے جو پیار کے ذریعے کسی عورت کو روزمرہ کی زندگی میں حاصل ہوتا ہے۔
حالانکہ، مانسون کی بارش کا رومانس اور اس کی گونج صرف کچھی لوک گیت میں ہی نظر نہیں آتی۔ رقص کرتے مور، سیاہ بادل، بارش اور اپنے محبوب کے لیے ایک نوجوان عورت کی تڑپ وہی فرسودہ چیزیں ہیں، جو ہر جگہ پائی جاتی ہیں – نہ صرف ہندوستان کے کلاسیکی، مقبول عام اور فوک میوزک کی دنیا میں، بلکہ ادب اور مصوری کی مختلف شکلوں میں بھی۔
اس کے باوجود، جب ہم انجار کے گھیلجی بھائی کی آواز میں گجراتی میں گائے گئے گیت کو سنتے ہیں، تو یہی تمام تصویریں موسم کی پہلی بارش کا نیا جادو پیدا کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں۔



