شادی کے بعد رینا پرتیتی جب پہلی بار لونادیئی گاؤں میں واقع اپنے سسرال پہنچیں، تو وہ حیران تھیں۔
’’گھر پہ بچے بھی میری مادری زبان، گونڈی میں بات کر رہے تھے،‘‘ وہ یاد کرتی ہیں۔ وہیں، ۳۴ سالہ آدیواسی کسان رینا کے لیے اپنی گونڈ برادری کی زبان سمجھ پانا مشکل تھا، کیوں کہ ’’میرے گاؤں (مویا] میں کوئی بھی گونڈی میں بات نہیں کرتا تھا۔‘‘
لونادیئی کی تقریباً ۸۰ فیصد آبادی گونڈ آدیواسی ہے۔ رینا بتاتی ہیں، ’’جو لوگ گونڈ آدیواسی نہیں ہیں، وہ بھی گونڈی میں بات کر پا رہے تھے۔‘‘
رینا کے شوہر کے بھتیجے اور بھتیجیاں انہیں چڑھاتے تھے، ’’چاچی کو گونڈی بولنے نہیں آتی!‘‘ وہ اسے یاد کرتے ہوئے ہنستی ہیں اور مزید کہتی ہیں، ’’حالانکہ، شروع میں سب کے ساتھ تھوڑا تھوڑا تُتلا کے (لکنت کے ساتھ) بولتے تھے، لیکن پھر اپنی مادری زبان میں ان سے بات کرنے لگے۔‘‘
گونڈی ایک دراوڑی زبان ہے جو کسی زمانہ میں صرف مدھیہ پردیش میں ہی نہیں، بلکہ ہندوستان کے دیگر حصوں میں بھی بڑے پیمانے پر بولی جاتی تھی۔ آج یونیسکو کے ذریعہ اسے امکانی طور پر معدومیت کے خطرہ سے دوچار زبانوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ گونڈ برادری مدھیہ پردیش کی سب سے بڑی آدیواسی برادریوں میں سے ایک ہے، لیکن ان کی زبان کو خطرہ لاحق ہے۔
















