لونادیئی گاؤں میں سرکاری اسکول کی آخری کلاس ختم ہوچکی ہے۔ کھیل کا میدان قہقہوں سے گونج رہا ہے۔ چاروں طرف دھما چوکڑی مچی ہوئی ہے۔ ابھی ابھی چور سپاہی کا کھیل کھیلنے کے بعد پرارتھنا پرتیتی اور اس کی سہیلیاں اپنی سانسیں درست کرنے کے لیے بیٹھ گئیں ہیں، لیکن ان کی بات چیت جاری ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ بات چیت ہندی میں ہو رہی ہے۔
پرارتھنا اور اس کی سہیلیوں کا ہندی میں گفتگو کرنا دلچسپ بھی ہے اورحیران کن بھی۔ ایسا اس لیے ہے کیونکہ لونادیئی گونڈوں کا گاؤں ہے۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ مدھیہ پردیش کے چھندواڑہ ضلع میں واقع اس گاؤں کے غیرگونڈ بھی گونڈی بول سکتے ہیں۔ تاہم پرارتھنا، جو ایک گونڈ آدیواسی ہے، اپنی مادری زبان میں چند ٹوٹے پھوٹے کلمات ہی ادا کر پاتی ہے: ’’تھوڑا تھوڑا بولنا آتا ہے،‘‘ آٹھویں کلاس کی طالبہ پرارتھنا کہتی ہے۔
اور اس کی سہیلیاں، ان کا کیا کہنا ہے؟
’’میں ہندی بولتی ہوں… گونڈی نہیں آتی،‘‘ مانوی پرتیتی کہتی ہے۔ ’’میں بھی ہندی ہی بولتی ہوں،‘‘ پارول ڈہیریا بھی کہتی ہے۔
پرارتھنا اپنی سہیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے، ’’یہ سب [اپنی سہیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے] ہندی میں بات کرتی ہیں۔ اسی لیے میں بھی ہندی بولتی ہوں… سب کو گونڈی نہیں آتی۔‘‘ اس کے باوجود یہ زبان اس کے لیے غیرمانوس نہیں ہے۔ اب بھی اس کے گھر میں یہ بولی سنائی دیتی ہے۔ اس کی دوسری سہیلی امیتا اہاکے بھی اس سے اتفاق کرتی ہے: ’’میرے والد ہی گھر میں گونڈی بولتے ہیں۔‘‘
گونڈ برادری کی آبادی مدھیہ پردیش کی کل قبائلی آبادی کا ایک تہائی سے زیادہ ہے۔ ہندوستان میں درج فہرست قبائل کے شماریاتی پروفائل ۲۰۱۳ کے مطابق، اس خاصی بڑی آبادی (۵۰ لاکھ ۹۳ ہزار ۱۲۴) کے باوجود بہت کم گونڈ ایسے ہیں جو اپنی زبان بولتے نظر آتے ہیں۔ درحقیقت،یونیسکو نے گونڈی، جو ایک دراوڑی زبان ہے، کو معدومیت کے خطرے سے دوچار زبانوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔
















