ہریانہ کے سونی پت ضلع میں واقع آساور پور گاؤں کی عورتیں مشکل سے ہی کبھی اپنے گھروں سے باہر نکلتی ہیں۔ ایک عورت کا مقام یہاں پر اس سے زیادہ نہیں ہے، اور اگر اپنے شوہر کی مسلسل آمدنی کے باوجود بھی وہ گھر سے باہر جاکر کام کرتی ہیں، تو اس کو آسانی سے بدنام کیا جا سکتا ہے۔ اسی غالب عقیدے کو آگے بڑھاتے ہوئے، گاؤں کے مرد اپنی لڑکیوں کو تعلیم دلانے کی مخالفت کرتے ہیں۔ آساور پور میں دسویں کلاس تک کا ایک اسکول ہے، حالانکہ یہاں پر لڑکیوں کو دوسری کلاس کے آگے شاید ہی پڑھایا جاتا ہے۔

لیکن کشش، جو کہ ایک دلت ہے، پانچویں کلاس تک پہنچ چکی ہے، وہ اپنی جماعت کی مٹھی بھر لڑکیوں میں سے ایک ہے۔ اس کی ماں نشا اہلدھیا نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ اس کی بیٹی اسکول میں رہے اور اسے ڈاکٹر یا ٹیچر بننے کے اپنے خواب کو پورا کرنے کا موقع ملے۔

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Shranya Gambhir

شرنیا گمبھیر سونی پت، ہریانہ کی اشوکا یونیورسٹی کی ایک اَنڈرگریجویٹ ہیں، جو ادب اور صحافت کی پڑھائی وہاں سے کر رہی ہیں۔ وہ جنسی اور سماجی انصاف کے امور پر کام کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ یہ ویڈیو ڈاکیومینٹری ان کی ۲۰۱۶ کی پاری انٹرنشپ کا حصہ ہے۔

Other stories by Shranya Gambhir