’’ایئی گاچھ، ایئی گھور، ایئی ماٹیر جے مایا، سیئی مایا لیے امرا کوتھائے جابو؟ [یہ درخت… یہ گھر…یہ مٹی جو ہمیں اتنی عزیز ہے…یہ محبت لے کر ہم کہاں جائیں گے؟]‘‘
آپون کوری ہیمبرم اُداس ہیں اور ناراض بھی دکھائی دے رہی ہیں۔ ’’یہ سب میرا ہے،‘‘ اپنی نظروں کو چاروں طرف گھماتے ہوئے ۴۰ سالہ سنتھال آدیواسی خاتون کہتی ہیں۔ ’’میری اپنی زمین ہے،‘‘ وہ زمین پر بنے ایک نشان سے دوسرے نشان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتی ہیں۔ ان کی ۶-۵ بیگھہ (تقریباً ڈیڑھ ایکڑ) زمین میں دھان کی کھیتی ہوتی ہے۔
’’میں نے اتنے سالوں میں جو کچھ بنایا ہے، کیا حکومت وہ سب واپس کر پائے گی؟‘‘ مغربی بنگال کے بیر بھوم ضلع میں دیوچا پاچامی ریاستی کوئلہ کان کنی پروجیکٹ کی وجہ سے ۱۰ گاؤوں اجڑنے والے ہیں، جس میں آپون کوری کا ہرین سنگا گاؤں بھی شامل ہے۔
’’یہ سب چھوڑ کر، ہم کہاں جائیں گے؟ ہم کہیں نہیں جانے والے ہیں،‘‘ آپون کوری پرعزم لہجے میں کہتی ہیں۔ اس لڑائی میں جو لوگ سب سے آگے ہیں، ان میں آپون کوری بھی شامل ہیں۔ ان کے جیسی عورتیں پولیس اور برسر اقتدار پارٹی سے لوہا لیتے ہوئے جلسے جلوس کا اہتمام کر رہی ہیں اور ہاتھوں میں لاٹھی ڈنڈا، جھاڑو، درانتی اور کٹاری (ایک طرح کا چاقو) جیسے اوزار لے کر سڑکوں پر ریلیاں نکال رہی ہیں۔
سردی کی دوپہر ہے اور ہرین سنگا گاؤں میں اچھی دھوپ کھلی ہوئی ہے۔ آپن کوری اپنی پڑوسن، لبسا کے آنگن میں کھڑی ہو کر ہم سے یہ باتیں کر رہی ہیں۔ اینٹ کی دیواروں اور کھپریل کی چھت والا یہ گھر گاؤں کے داخلی سرے پر بنا ہوا ہے۔
ہماری بات چیت میں شامل ہوتے ہوئے لبسا ہیمبرم کہتی ہیں، ’’زمین لینے سے پہلے انہیں ہماری جان لینی پڑے گی۔‘‘ وہ دوپہر کے کھانے (پچھلی رات کو بچی ہوئی سبزی کے ساتھ چاول) میں بھی ساتھ دینے لگتی ہیں۔ لبسا (۴۰ سالہ) کرشر میں کام کرتی ہیں، جہاں پتھروں کو توڑنے کا کام کیا جاتا ہے۔ کرشر میں کام کرنے والے مزدوروں کو یومیہ ۲۰۰ سے ۵۰۰ روپے ملتے ہیں۔








