زرعی مزدور کھیتوں میں کام کر رہے ہوتے ہیں، یا زور زور سے گاتے ہوئے نمک کی کیاریوں میں کام کرنے والے مزدور، یا کانکن، یا اپنی کشتیوں پر سوار ماہی گیر کوئی حیرت انگیز نظارے نہیں پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ ہماری روایتی ثقافتوں میں سخت جسمانی محنت اور کسی خاص پیشہ سے جڑے گیتوں کے درمیان ایک اٹوٹ رشتہ رہا ہے۔ معاش سے جڑے لوک گیت ہماری ثقافت میں بہت پہلے سے موجود رہے ہیں۔ کئی بار ساتھ کام کرنے والے لوگوں کے گروہوں میں جوش بھرنے اور ان کے درمیان تال میل بنانے میں ان گیتوں کا اہم رول رہا ہے، اور کئی بار یہ گیت ان کے تھکانے والے کاموں کی جانفشانی، مشقت اور گھبراہٹ کو کم کرنے کا کام کرتے ہیں۔
تقریباً ۱۷۰ میٹر لمبی کچھّ کی آبی گزرگاہ، چھوٹی ندیوں، مُہانوں اور دلدلی زمینوں والا یہ وسیع علاقہ ایک بڑے ایکو سسٹم اور متعدد سمندری جانوروں کی افزائش کے علاقہ کے طور پر موجود ہے۔ اس ساحلی علاقے میں مچھلی پکڑنا یہاں کی بڑی آبادی کے لیے ایک روایتی پیشہ ہے۔ اس گیت میں ماہی گیروں کے سامنے پیش آنے والی چنوتیوں کا ذکر ہے، جن کا معاش آہستہ آہستہ ساحلی علاقوں میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں کے نام پر برباد ہو رہا ہے۔
کچھّ میں ماہی گیروں کی انجمنوں، دانشور طبقوں اور کئی دیگر لوگوں نے ان سرگرمیوں کے منفی اثرات کے خلاف شکایت بھی کی۔ وہ مُندرا تھرمل پلانٹ (ٹاٹا)، اور مُندرا پاور پروجیکٹ (اڈانی گروپ) کو تیزی سے برباد ہوتے سمندری تنوع کا قصوروار مانتے ہیں۔ اس کا سب سے برا اثر اس علاقہ کی ماہی گیر برادریوں پر پڑا ہے۔ یہاں پر پیش کیا جا رہا یہ گیت، جو بہت آسان زبان میں ہے، انہیں چنوتیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
محنت کشوں کے اس گیت کو مُندرا تعلقہ کے جُما واگھیر نے انتہائی خوبصورتی سے گایا ہے۔ جُما خود بھی ایک ماہی گیر ہیں۔ وہ اس گیت کے مرکزی گلوکار ہیں اور کورس اس کے ٹیک کو دہراتا ہے – ہو جمالو (سنو ماہی گیرو)۔ اس گیت کا دلکش ترنم ہمیں اس تیزی سے بدلتے کچھّ کے سمندری ساحلوں تک کھینچ لاتا ہے۔



