جب بھگت رام یادو عوامی ملکیت والے ہریانہ روڈ ویز سے بطور کلرک ریٹائر ہوئے تو وہ ریٹائرمنٹ کے بعد آرام دہ زندگی گزار سکتے تھے۔ ’’لیکن میں نے اپنے اندر ایک جنون [جذبہ] محسوس کیا،‘‘ ۷۳ سالہ بزرگ، جو ایک مثالی اور انعام یافتہ ملازم تھے، کہتے ہیں۔
ان کے شوق نے انہیں اس ہنر – چارپائی اور پیڑھا بُننے – کی بازیافت پر مجبور کر دیا۔ اس ہنر کو ان کے والد گگن رام یادو نے انہیں بچپن میں سکھایا تھا۔
بھگت کی تعلیم نصف صدی قبل شروع ہوئی تھی جب وہ صرف ۱۵ سال کے تھے۔ وہ اپنے تین بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر اپنے والد کو فنکارانہ مہارت کے ساتھ اپنے استعمال کے لیے چارپائیاں بنتے دیکھتے تھے۔ ان کے والد ۱۲۵ ایکڑ اراضی کے مالک تھے اور انہوں نے گرمیوں کے مہینوں – گندم کی کٹائی کے بعد – کو مضبوط چارپائیاں بننے کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ وہ دستی طور پر تیار سن (کروٹالیریا جونسیا) کی ڈوریوں، سُوت (کپاس کی رسی) اور سال (شوریہ روبوسٹا) اور شیشم (شمالی ہندوستانی روز ووڈ) کے درختوں کی لکڑی کا استعمال کرتے تھے۔ ان کے کام کا مقام ان کا بیٹھک تھا، جو ایک کھلا کمرہ ہوا کرتا تھا جہاں لوگ اور مویشی دونوں دن کا زیادہ تر وقت گزارتے تھے۔
بھگت رام اپنے والد کو ’’ایک نمبر کا آری‘‘ – ایک عظیم کاریگر – کے طور پر یاد کرتے ہیں، جو اپنے اوزاروں کا خاص خیال رکھتے تھے۔ ’’میرے والد نے ہمیں چارپائی بنانے کا ہنر سیکھنے کی ترغیب دی۔ وہ کہتے تھے، ’آؤ، سیکھو؛ یہ بعد میں تمہاری مدد کرے گا‘،‘‘ بھگت رام یاد کرتے ہیں۔
لیکن کم عمر لڑکے اس بظاہر تھکا دینے والے کام کی بجائے فٹ بال، ہاکی یا کبڈی کھیلنے کے لیے نکل بھاگ کھڑے ہوتے تھے۔ ’’ہمارے والد ہمیں ڈانٹتے، تھپڑ بھی مارتے، لیکن ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’ہم نوکری حاصل کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے۔ ہم نے صرف اپنے والد کے خوف سے یہ ہنر سیکھا، جب ہم پھنس جاتے تھے تو اکثر ان سے پوچھتے تھے کہ ڈیزائن بنانے کے لیے رسیوں کو کیسے حرکت دیں۔‘‘
























