پی پونکوڈی
ماہی گیر خاتون
سیروتور، ناگ پٹینم، تمل ناڈو
میری شادی کو ۱۴ سال ہو گئے۔ اس کے بعد سے ہی میں اپنے خود کے گاؤں کے سمندری ساحل پر نہیں گئی ہوں۔ لیکن میرے کیمرے نے سمندر سے میری دوبارہ ملاقات کرا دی۔ میں نے مچھلی پکڑنے سے متعلق طور طریقے اور کشتیوں کو دھکیل کر سمندر میں لے جانے کی سرگرمیوں کے علاوہ، برادری میں خواتین کے تعاون کو بیان کرنے والی تصویریں لیں۔
کسی کو ایک تصویر کے لیے صرف کلک کرنا سکھانا بہت آسان ہے، لیکن ایک فوٹوگرافر کو تصویروں کے ذریعے کہانے کہنے کا ہنر سکھانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ پلنی ہمیں وہی ہنر سکھاتے ہیں۔ وہ ہمیں فوٹوگرافی کرنے سے پہلے سبجیکٹ کے ساتھ رابطہ قائم کرنا سکھاتے ہیں۔ لوگوں کی تصویریں کھینچ کر میں اپنے اندر ایک نئی خود اعتمادی محسوس کر رہی ہوں۔
میں نے ماہی گیر برادری کے ذریعے اختیار کیے جانے والے الگ الگ پیشوں کو اپنی فوٹوگرافی کا موضوع بنایا، جن میں مچھلی بیچنے، ان کی صفائی کرنے اور ان کی نیلامی کرنے جیسے کام شامل ہیں۔ اس موقع نے مجھے اپنی برادری کی ان خواتین کی زندگی کو قریب سے دیکھنے سمجھنے میں مدد کی، جو گھوم گھوم کر مچھلی بیچنے کا کام کرتی ہیں۔ اس کام میں انہیں مچھلیوں سے بھری ایک بھاری ٹوکری اپنے سر پر اٹھا کر گھومنا پڑتا ہے۔
کُپّو سوامی پر میری فوٹو اسٹوری میں مجھے ان کی زندگی کے بارے میں جاننے کا موقع ملا کہ جب وہ سرحدی سمندر میں مچھلیاں پکڑ رہے تھے، تب کیسے سری لنکائی بحریہ نے گولی داغ دی تھی۔ اس کے بعد سے ہی ان کے ہاتھ پیر کام نہیں کرتے ہیں اور نہ وہ بول پاتے ہیں۔
میں جب ان سے ملنے گئی، تو میں نے ان کو اپنا روز کا کام – مثلاً کپڑاً دھوتے، باغبانی اور صاف صفائی کرتے وقت غور سے دیکھا۔ تب مجھے ان کی روزمرہ کی مشکلات کا اندازہ ہوا۔ وہ اپنے ہی ہاتھ پیر پر بھروسہ نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن وہ مجھ سے ایسے پیش آ رہے تھے کہ اپنا کام خود کرنے میں انہیں سب سے زیادہ خوشی حاصل ہوتی ہے۔ انہیں اس بات کی کوئی فکر نہیں تھی کہ ان کی معذوری باہر کی دنیا اور ان کے درمیان کھڑی سب سے اونچی دیوار تھی۔ لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ کئی بار وہ اپنے اندر ایک خلاء محسوس کرتے ہیں، جو انہیں مر جانے کے لیے آمادہ کرتا ہے۔
میں نے سارڈن پکڑنے والے ماہی گیروں پر ایک فوٹو سیریز کی تھی۔ سارڈن مچھلیاں سینکڑوں کی تعداد میں پکڑی جاتی ہیں، اس لیے ان کو سمندر سے نکال کر ساحل تک لانا اور جال سے انہیں ایک ایک کر کے نکالنا ایک چنوتی بھرا کام ہے۔ میں نے تصویروں کے ذریعے یہ دکھانے کی کوشش کی تھی کہ انہیں جال سے چن چن کر نکالنے اور برف کے بکسے میں جمع کرنے تک کیسے مرد اور عورتیں ایک ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔
ماہی گیروں کی برادری سے تعلق رکھنے کے باوجود ایک خاتون فوٹوگرافر کے طور پر ہمارے سامنے سب سے بڑا چیلنج ایسے سوالوں کا پوچھا جانا ہے، جیسے ’آپ ان کی تصویر کیوں کھینچ رہی ہیں؟ عورتیں فوٹوگرافی جیسے کام کیوں کرتی ہیں؟‘
پلنی انّا ان سبھی ماہی گیر خواتین کے لیے ایک بڑی طاقت ہیں، جو اب اپنی شناخت ایک فوٹوگرافر کے طور پر بنانے کے لیے ڈٹی ہوئی ہیں۔