بنجر سطح مرتفع پر واقع ایک درگاہ نے مالگاؤں کے لوگوں کی اچھی خدمت کی ہے۔ مہاراشٹر کے ستارا ضلع میں واقع یہ درگاہ کئی صدیوں سے لوگوں کے لیے سہارا رہی ہے۔
اسکولی بچے درگاہ سے ملحق درخت کے نیچے اپنا ہوم ورک مکمل کرتے ہیں۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں داخلی دروازے پر سول سروس کے مسابقتی امتحانات کی تیاری کرتے ہیں۔ یہاں شدید گرمی کے موسم میں ٹھنڈی ہوا چلتی ہے۔ سامنے کی کھلی جگہ پر پولیس فورس میں شامل ہونے کے خواہاں نوجوان فٹنس کی سخت ٹریننگ کرتے ہیں۔
پندرہ ایکڑ سے زیادہ زمین کے مالک، گاؤں کے ایک کسان ۷۶ سالہ ونائک جادھو کہتے ہیں، ’’میرے دادا بھی اس [درگاہ] کی کہانیاں سناتے تھے۔ تصور کریں کہ یہ کتنی پرانی ہوگی۔ ہندوؤں اور مسلمانوں نے مل کر اس کی دیکھ ریکھ کی ہے۔ یہ پرامن بقائے باہمی کی علامت رہی ہے۔‘‘
لیکن، ستمبر ۲۰۲۳ میں حالات بدل گئے۔ مالگاؤں میں عقیدت کی نگاہ سے دیکھی جانے والی درگاہ نے ایک ئنی معنویت اختیار کر لی – نوجوانوں کے ایک چھوٹے لیکن پرشور گروپ نے دعویٰ کیا کہ یہ ناجائز طریقے سے قبضہ کی گئی زمین پر بنی ہے۔ ہندوتوا گروپوں کے ایک اتحاد نے انہیں مشتعل کیا تھا۔
مالگاؤں کے ان ہندوؤں نے جن کی عمر ۲۰ سے ۲۵ سال کے درمیان ہے، ضلع انتظامیہ کو خط لکھ کر ’’غیر قانونی تجاوزات‘‘ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ ان میں سے کچھ نے مزار سے ملحق پانی کے ٹینک کو پہلے ہی توڑ دیا تھا۔ ان کے خط میں لکھا گیا تھا کہ ’’مسلم کمیونٹی اپنے ارد گرد کی سرکاری اراضی پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔‘‘ اور مزید یہ کہ ’’مزار گرام پنچایت کی مرضی کے خلاف بنایا گیا ہے۔‘‘













