وہ وراٹ کوہلی کا بھکت تھا، اور وہ بابر اعظم کو پسند کرتی تھی۔ وراٹ کے سنچری بنانے پر وہ اسے چھیڑتا تھا، اور جب بابر اعظم نے بہترین پاری کھیلی ہو، تو وہ اسے چڑھاتی تھی۔ کرکٹ کو لے کر ہونے والا ہنسی مذاق عائشہ اور نورالحسن کی محبت کی زبان تھی، اور اس حد تک پروان چڑھتی تھی کہ ان کے آس پاس کے لوگ یہ جان کر اکثر حیران ہوتے تھے کہ ان دونوں کی ’ارینج میرج [گھر والوں کے ذریعے طے کی گئی شادی]‘ ہوئی ہے۔
جون ۲۰۲۳ میں جب کرکٹ ورلڈ کپ کا ٹائم ٹیبل آیا، تو عائشہ کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ ہندوستان بنام پاکستان مقابلہ ۱۴ اکتوبر کو گجرات کے احمد آباد میں ہونا تھا۔ مغربی مہاراشٹر میں اپنے والدین کے گاؤں راجاچے کُرلے میں عائشہ (۳۰) یاد کرتی ہیں، ’’میں نے نورل سے کہا تھا کہ ہمیں یہ میچ اسٹیڈیم میں دیکھنا چاہیے۔ ہندوستان اور پاکستان کم ہی آمنے سامنے ہوتے ہیں۔ یہ ایک غیر معمولی موقع تھا، ہم دونوں کے پسندیدہ کھلاڑیوں کو ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھنے کا۔‘‘
بطور سول انجینئر کام کرنے والے نورل (۳۰) نے کچھ فون کال کیے اور دو ٹکٹوں کا انتظام کرنے میں کامیاب ہو گئے، جو دونوں کے لیے بہت خوشی کی بات تھی۔ عائشہ تب تک چھ مہینے کے حمل سے تھیں، اس لیے انہوں نے احتیاط سے ستارا ضلع کے اپنے گاؤں پوسے ساولی سے ۷۵۰ کلومیٹر کا سفر کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ٹرین کی ٹکٹیں بک ہو گئیں اور رہنے کا انتظام کر لیا گیا۔ آخرکار وہ دن بھی آ گیا، لیکن وہ دونوں وہاں نہیں پہنچ سکے۔
چودہ اکتوبر، ۲۰۲۳ کو جب سورج آسمان میں چڑھا، تب نورل کو گزرے ایک مہینہ ہو چکا تھا اور عائشہ کی زندگی پوری طرح بکھر گئی تھی۔








