’’میں نے ابھی ابھی اورینٹل شاما کی آواز سنی۔‘‘
میکا رائی کافی خوش نظر آ رہے ہیں۔ وہ اس کی پکار کو چہچہاہٹ کے ایک خوبصورت سلسلے کی طرح بتاتے ہیں۔
حالانکہ، ان کے اس جوش میں اس ننھے کالے، سفید اور پیلے پروں والے پرندے کے بارے میں فکرمندی جھلک رہی ہے۔ اروناچل پردیش کی ایگل نیسٹ وائلڈ لائف سینکچری میں گزشتہ ایک دہائی سے پرندوں کا مطالعہ کر رہے ۳۰ سالہ فیلڈ اسٹافر میکا کہتے ہیں، ’’یہ پرندہ عموماً [۹۰۰ میٹر] نیچے ملتا ہے، لیکن کچھ عرصے سے میں اسے یہاں [۲۰۰۰ میٹر] اوپر سن رہا ہوں۔‘‘
مقامی باشندہ میکا سائنسدانوں، محققین اور فیلڈ اسٹاف کی اس ٹیم میں ہیں جو ۱۰ سال سے اروناچل پردیش کے مغربی کمینگ ضلع کے منطقہ حارہ کے پہاڑی جنگلوں میں پرندوں کی انواع کا مطالعہ کر رہی ہے۔
اپنی پونچھوں پر سفید لکیروں والے اس گہرے نیلے اور کالے رنگ کے دلکش پرندے کو پکڑے ڈاکٹر اُمیش شرینواسن بتاتے ہیں، ’’یہ سفید پونچھ والا رابن ہے۔ یہ ۱۸۰۰ میٹر کی اونچائی تک ملتا تھا، لیکن گزشتہ تین چار سالوں سے یہ ۲۰۰۰ میٹر پر ملنے لگا ہے۔‘‘
شرینواسن ماہر طیور ہیں اور بنگلورو کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس (آئی آئی ایس سی) میں پروفیسر اور اروناچل پردیش میں کام کر رہی اس ٹیم کے سربراہ ہیں۔ شرینواسن مزید کہتے ہیں، ’’گزشتہ ۱۲ سالوں سے مشرقی ہمالیہ میں پرندوں کی انواع اپنی پرواز کی اونچائیاں بدل رہی ہیں۔‘‘






























