’’ایس ڈی ایم [سب ڈویژنل مجسٹریٹ] جون میں آئے اور کہا، ’یہ رہا منتقلی کا نوٹس‘۔‘‘
بابو لال آدیواسی اپنے گاؤں گہدرا کے داخلی دروازہ پر کھڑے برگد کے بڑے درخت کی طرف اشارہ کرتے ہیں – یہ وہ جگہ ہے جہاں برادری کی میٹنگیں ہوتی ہیں – اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایک ہی دن میں ان کے لوگوں کا مستقبل بدل گیا ہے۔
مدھیہ پردیش میں پنّا ٹائیگر ریزرو (پی ٹی آر) کے گرد و نواح کے ۲۲ گاؤوں کے ہزاروں باشندوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ڈیم اور دریا کو جوڑنے والے منصوبے کے لیے اپنے گھر اور زمین سے دست بردار ہو جائیں۔ اس منصوبہ کے لیے حتمی ماحولیاتی اجازت نامہ ۲۰۱۷ میں ہی مل گیا تھا، اور اب نیشنل پارک میں درختوں کی کٹائی شروع ہو گئی ہے، اور زمین سے بے دخلی کے خوف نے زور پکڑ لیا ہے۔
دو دہائیوں سے زیر غور کین اور بیتوا ندیوں کو ۲۱۸ کلومیٹر لمبی نہر سے جوڑنے کے اس منصوبہ کے لیے ۴۴۶۰۵ کروڑ روپے (پہلا مرحلہ) مختص کیے گئے ہیں۔
اس منصوبہ کو بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ۳۵ سال سے آبی وسائل کے شعبہ سے وابستہ سائنسداں ہمانشو ٹھاکر کہتے ہیں، ’’اس منصوبہ کا کوئی جواز نہیں ہے، یہاں تک کہ ہائیڈرولوجیکل جواز بھی نہیں ہے۔ اول تو یہ کہ کین ندی میں اضافی پانی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ کوئی قابل اعتبار تخمینہ یا معروضی مطالعہ پیش نہیں کیا گیا ہے، صرف پہلے سے طے شدہ فیصلہ صادر کر دیا گیا ہے،‘‘ وہ مزید کہتے ہیں۔
ٹھاکر جنوبی ایشیا ڈیم، ندی اور عوام کے نیٹ ورک (ایس اے این ڈی آر پی) کے کوآرڈینیٹر ہیں۔ وہ ندیوں کو آپس میں جوڑنے کے لیے سال ۲۰۰۴ کے آس پاس وزارت آبی وسائل (اب جل شکتی) کے ذریعہ قائم کی گئی ماہرین کی کمیٹی کے رکن تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس منصوبہ کی بنیاد ہی حیران کن ہے: ’’ندیوں کو جوڑنے سے ماحولیات پر مرتب ہونے والے اثرات اور اس کے نتیجے میں جنگل، دریا، حیاتیاتی تنوع پر جو سماجی اثرات مرتب ہوں گے اس کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کے ساتھ ساتھ بندیل کھنڈ اور اس سے بعید بھی آبادیاں غربت کا شکار ہو جائیں گی۔‘‘





























