رات میں گہری اور اچھی نیند شیلا واگھمارے کے لیے اب صرف پرانے دنوں کی یاد بن کر رہ گئی ہے۔
فرش پر بچھی گودھڑی پر پالتھی لگائے بیٹھی ۳۳ سالہ شیلا کہتی ہیں، ’’رات میں گہری نیند سوئے مجھے نہ جانے کتنے سال ہو گئے۔‘‘ ان کی سرخ جلتی ہوئی آنکھوں سے گہری تکلیف کا اظہار ہو رہا ہے۔ بے نیند راتوں کے لمبے گھنٹوں کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کی ہچکیاں پھوٹ پڑتی ہیں اور پورا جسم بری طرح کانپنے لگتا ہے۔ وہ ضبط کرنے کی کوشش کرتی ہیں، ’’میں رات بھر روتی رہتی ہوں۔ مجھے لگتا ہے…مجھے لگتا ہے کہ کوئی میری گردن دبا رہا ہے۔‘‘
شیلا، مہاراشٹر کے بیڈ ضلع کے راجوری گھوڑا گاؤں کے مضافات میں رہتی ہیں۔ بیڈ شہر سے یہ جگہ تقریباً ۱۰ کلومیٹر دور ہے۔ اینٹ سے بنے اپنے دو کمروں کے گھر میں جب وہ اپنے شوہر، مانک اور تین بچوں، کارتک، بابو اور روتوجا کے بغل میں سونے کی کوشش میں کروٹیں بدلتی رہتی ہیں، تو ان کی سسکیوں سے اُن سب کی نیند ٹوٹ جاتی ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’میرے رونے کی وجہ سے دوسروں کی نیندوں میں خلل پڑتا ہے۔ تب میں اپنی آنکھوں کو بند کرکے خاموشی سے سوئے رہنے کی کوشش کرتی ہوں۔‘‘
لیکن انہیں نیند نہیں آتی ہے، اور نہ ہی آنکھوں سے آنسو بند ہوتے ہیں۔
شیلا بتاتی ہیں، ’’میں ہمیشہ بے چین اور تناؤ میں رہتی ہوں۔‘‘ وہ تھوڑا جھجکتی ہیں، لیکن ان کے چہرے کی ناراضگی نہیں چھپتی۔ ’’یہ سب میری بچہ دانی نکالے جانے کے بعد ہی شروع ہوا۔ میری زندگی اب ہمیشہ کے لیے بدل گئی ہے۔‘‘ سال ۲۰۰۸ میں جب ایک آپریشن کے ذریعے ان کی بچہ دانی نکالی گئی تھی، تب وہ صرف ۲۰ سال کی تھیں۔ اس کے بعد سے وہ بے چینی، کم خوابی، چڑچڑے پن کے دورے اور کئی دوسری جسمانی تکلیفوں اور درد میں مبتلا ہیں، جو طویل عرصے تک ان کے ساتھ بنے رہتے ہیں۔















