دو دُونی چار، ۱۶۰۰ سے زیادہ کی قطار...
دو دُونی چار
چار دُونی آٹھ
آٹھ دونی ہوا سولہ
اوپر سے جوڑا ۱۰...
۱۶۰۰ سے زیادہ تو ابھی قطار میں ہیں۔
اگر تم نے غصے کو جوڑنا سیکھ لیا ہے
اور اپنے ڈر کو گھٹانا جان گئے ہو،
تو اب گنتی سیکھو
اور بھاری بھرکم اعداد کا حساب کرو،
اُن لاشوں کو گنو
جو بھری ہوئی ہیں بیلٹ باکسوں میں۔
بتاؤ کہ کہیں تمہیں اعداد سے ڈر تو نہیں لگا۔
فروری، مارچ، اپریل، مئی
مہینوں کے نام یاد رکھو،
ہفتے کے وہ دن یاد رکھو جو اندیکھی کے شکار ہوئے،
موت، آنسو، اور غم کے موسموں کے نام،
ہر پولنگ مرکز، ہر ضلع کا نام،
گاؤں کے ہر بلاک یاد رکھو۔
کلاس کی دیواروں کے رنگ،
اُن اینٹوں کے گرنے کی آواز،
اسکولوں کے ملبہ میں تبدیل ہونے کا نظارہ یاد رکھو،
ہماری آنکھیں جلتی ہیں تو جل جائیں، یاد کرنا ہوگا ان ناموں کو
کلرکوں، چپراسیوں، اور سارے ٹیچروں کے –
گریش سر، رام بھیا
مِس سنیتا رانی
مِس جاونتری دیوی
عبدل سر، اور فریدہ میم۔
انہیں زندہ رکھنے کے لیے ہمیں یاد رکھنا ہوگا
تب بھی، جب سانس نہیں مل رہی اور یہ مر جا رہے۔
اب سانس لینے کا مطلب برداشت کرنا ہے
خدمت کرنے کا مطلب مر جانا ہے
سزا دینا ہی حکومت کی روایت ہے اب
جیتنا ہے تو قتل عام کرنا ہے
خاموشی کی خاطر اب مناسب ہے جان سے مارنا
لکھنے کا مطلب اُڑنا ہے
اب جینا ہے تو بولنا ہے
اور یاد میں رہنا، جینا ہے –
گریش سر، رام بھیا
مِس سنیتا رانی
مِس جاونتری دیوی
عبدل سر، اور فریدہ میم
یاد رکھنے کے لیے ضروری ہے سیکھنا،
سیکھ لو، طاقت اور حالیہ سیاست کی زبان۔
خاموشیوں اور تکلیفوں کی
اصطلاحیں رَٹ لو۔
ٹوٹ کر بکھر گئے خوابوں کو جمع کرو،
جو رہ گیا اَن کہا، اسے پڑھو۔
ایک دن تم جانوگے
جھوٹ میں دبا سچ۔
ایک دن تم جانوگے
کیوں مر گئے اتنے ٹیچر۔
کلاس روم کیوں سنسان ہوئے
اور کیوں اجڑ گئے کھیل کے میدان۔
شمشان میں کیوں تبدیل ہوئے اسکول
چتاؤں میں آگ کس نے دی۔
لیکن، تم کو یہ نام ہمیشہ یاد رکھنے ہوں گے –
گریش سر، رام بھیا
مِس سنیتا رانی
مِس ساونتری دیوی
عبدل سر، اور فریدہ میم
آڈیو: سدھنوا دیش پانڈے جن ناٹیہ منچ کے ایک اداکار، ہدایت کار اور لیفٹ ورڈ بُکس کے ایڈیٹر ہیں۔
مضمون کا عنوان: شاعر دانش علی گڑھی کے شعر کا ایک مصرع
مترجم: محمد قمر تبریز