سُکھ متی دیوی کے پیر آجکل کبھی کبھار تھرتھراتے ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں اوپر نیچے چڑھائی کرنے سے انھیں کافی نقصان پہنچا ہے۔ ۶۵ سالہ کسان، سُکھ متی کا گاؤں، کُٹی تقریباً ۳۶۰۰ میٹر کی بلندی پر واقع ہے، جہاں تک پہنچنے کے لیے وہ کئی دہائیوں سے ۷۰ کلومیٹر سے زیادہ دوری طے کر رہی ہیں۔ وہ مئی سے نومبر تک کُٹی میں رہتی ہیں۔ برف جب گاؤں کو پوری طرح ڈھک لیتی ہے، تو وہ ۷۰ کلومیٹر نیچے اتر کر دھارچولا ٹاؤن آ جاتی ہیں، جو ۹۰۰ میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔
کبھی کبھی، جب چڑھائی بالکل کھڑی ہو اور ساڑھے تین کلومیٹر کی چڑھائی کرنے میں گھنٹوں لگ سکتے ہوں، تب وہ گھوڑے کا استعمال کرتی ہیں۔ لیکن یہ متبادل اب مشکل ہے، کیوں کہ پیدل چلنے والے راستے کے کچھ حصے بارش کے سبب نیچے آنے والی چٹانوں اور ملبہ کے نیچے گُم ہو گئے ہیں۔ یہاں کے گاؤوں کے ساکنوں کا کہنا ہے کہ یہ تب ہوتا ہے جب بارڈر روڈ آرگنائزیشن (بی آر او)، جو لیپو لیکھ درّہ تک سڑک بنا رہی ہے، پہاڑوں کو ڈائنامائٹ سے اُڑاتی ہے۔
اس لیے سُکھ متی کا کُٹی تک کا راستہ اور بھی مشکل ہو گیا ہے، جو ملبہ اور پتھروں کے اوپر سے ہوکر نکل رہا ہے۔ اس راستے میں خطرناک تنگ چڑھائیاں ہیں اور درمیان میں کالی اور کُٹی- یانگتی ندیوں کو پار کرنا پڑتا ہے۔ ’’مجھے امید ہے کہ ایک دن میں کار سے اپنے گاؤں کا سفر کر سکوں گی،‘‘ انھوں نے مجھ سے تب کہا تھا، جب ہم مئی ۲۰۱۷ میں ۷۰ کلومیٹر پیدل چل کر کُٹی گئے تھے۔ ہمالیہ کی ویاس وادی میں واقع ۳۶۳ لوگوں کے اس گاؤں تک پہنچنے میں ہمیں پانچ دن لگے تھے۔
سُکھ متی دیوی (اوپر کے کور فوٹو میں) ہند-چین سرحد کے قریب واقع سات گاؤوں کے ۲۰۵۶ ساکنوں میں سے ایک ہیں – سبھی درج فہرست ذات، بھوٹیا برادری کے ہیں – جن کے لیے سڑک، ۲۰۱۹ کے لوک سبھا الیکشن میں ایک بڑا انتخابی ایشو ہے۔ یہ کئی برسوں سے ہر الیکشن میں ان کی بنیادی تشویشوں میں سے ایک رہا ہے، چاہے وہ ریاستی انتخاب ہو یا عام انتخابات۔ یہ سبھی گاؤوں ۱۱ اپریل کو ووٹ دیں گے۔










