ایک صبح انو درخت کے نیچے پلاسٹک کی ایک چٹائی پر بیٹھی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ان کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور چہرہ زرد ہے۔ لوگ ان سے فاصلہ بناکر بات کرتے ہیں۔ قریب میں جانور آرام کر رہے ہیں اور چارے کا انبار دھوپ میں سوکھ رہا ہے۔
انو بتاتی ہیں، ’’بارش ہونے پر بھی میں ایک چھاتا لیکر درخت کے نیچے بیٹھتی ہوں اور گھر کے اندر نہیں جاتی۔ یہاں تک کہ میرا سایہ بھی کسی کے اوپر نہیں پڑنا چاہیے۔ ہم اپنے بھگوان کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔‘‘
یہ درخت ان کے گھر سے ۱۰۰ میٹر دور، ایک کھلی جگہ پر ہے۔ ہر مہینے حیض کے دوران، تین دنوں کے لیے یہ درخت ہی ان کا ’گھر‘ بن جاتا ہے۔
انو (بدلا ہوا نام) کہتی ہیں، ’’میری بیٹی ایک پلیٹ میں میرے لیے کھانا رکھ کر چلی جاتی ہے۔‘‘ ان دنوں وہ الگ الگ برتن استعمال کرتی ہیں۔ ’’ایسا نہیں ہے کہ یہاں میں اپنی خوشی سے آرام کرتی ہوں۔ میں (گھر پر) کام کرنا چاہتی ہوں، لیکن اپنی ثقافت کی عزت کی وجہ سے میں یہاں پر ہوں۔ حالانکہ، ہمارے کھیتوں میں بہت زیادہ کام ہونے پر میں وہاں بھی کام کرتی ہوں۔‘‘ انو کی فیملی کے پاس ڈیڑھ ایکڑ کھیت ہے جس پر یہ لوگ راگی اُگاتے ہیں۔
حالانکہ، اُن دنوں انو اپنے دَم پر تنہا رہتی ہیں، لیکن ایسا کرنے والی وہ اکیلی نہیں ہیں۔ ۱۷ اور ۱۹ سال کی ان کی بیٹیاں بھی یہی کرتی ہیں (۲۱ سال کی ان کی ایک اور بیٹی ہے، جس کی شادی ہو چکی ہے)۔ ۲۵ کنبوں کے اس چھوٹے سے گاؤں میں، کاڈوگولّا برادری کی عورتوں کو اسی طرح سب سے الگ تھلگ رہنا پڑتا ہے۔
زچگی کے فوراً بعد بھی عورتوں کو مختلف قسم کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انو کے درخت کے ارد گرد ۶ جھونپڑیاں ہیں، جن میں اس قسم کی عورتیں اپنے نوزائیدہ بچوں کے ساتھ رہتی ہیں۔ دیگر مواقع پر یہ جھونپڑیاں خالی ہوتی ہیں۔ حیض کے دوران عورتوں کو درخت کے نیچے ہی رہنا پڑتا ہے۔















