’’تم سال بھر سے میری تصویریں کھینچ رہے ہو، آخر ان تصویروں کا کروگے کیا؟‘‘ گووندمّا ویلو غصے سے پوچھتی ہیں۔ اس سال مارچ میں اپنے بیٹے، سیلّیّا کی موت سے وہ پوری طرح ٹوٹ چکی ہیں۔ میری آنکھوں کی روشنی پوری طرح جا چکی ہے۔ میں تمہیں دیکھ نہیں پا رہی ہوں۔ میری اور میری عمر رسیدہ ماں کی دیکھ بھال کون کرے گا؟‘‘
وہ مجھے اپنے ہاتھوں پر لگے زخم اور کٹے کے نشان دکھاتی ہیں۔ گووندمّا کہتی ہیں، ’’۲۰۰ روپے کما کر گھر لے جانے کے لیے مجھے کافی تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ کیا میری عمر جھینگے پکڑنے کے لیے جال پھینکنے کی ہے؟ نہیں، میں اب یہ کام نہیں کر سکتی۔ میں صرف اپنے ہاتھ استعمال کر سکتی ہوں۔‘‘ ۷۰ سال کے آس پاس کی، چھوٹے قد والی اس کمزور عورت کا ماننا ہے کہ کوہ ۷۷ سال کی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’’مجھ سے لوگ یہی کہتے ہیں۔ ریت کھودنے اور جھینگا پکڑنے میں گہرے زخم آ جاتے ہیں۔ پانی میں ہاتھ ڈبونے پر مجھے پتہ نہیں چلتا کہ اس میں خون بہہ رہا ہے یا نہیں۔‘‘
میں نے انہیں پہلی بار ۲۰۱۹ میں دیکھا تھا، جب وہ بکنگھم نہر والے علاقے میں سفر کر رہی تھیں۔ یہ نہر شمالی چنئی کے ایک علاقہ، اینّور میں کوسس تلیار ندی کے متوازی بہتے ہوئے پڑوس کے تیروولّور ضلع کی طرف چلی جاتی ہے۔ مرغابی (گریب پرندہ) کی طرح تیزی سے نہر میں غوطہ لگاتے ہوئے دیکھ کر میں ان کی طرف متوجہ ہونے پر مجبور ہو گیا۔ وہ بڑی تیزی سے اپنے ہاتھوں کو ندی کی نچلی سطح پر جمی ریت میں گھساتیں اور جھینگے پکڑ کر اوپر لے آتیں۔ وہاں اور بھی لوگ تھے، لیکن کسی اور میں اتنی چستی نہیں تھی۔ ان کی کمر میں تاڑ کے پتے سے بُنی ایک ٹوکری بندھی ہوئی تھی، جس میں وہ ان جھینگوں کو جمع کر رہی تھیں۔ ان کا آدھا جسم کولہے تک پانی میں ڈوبا ہوا تھا، جس میں ان کی جلد کا رنگ بالکل نہر کے پانی جیسا تھا۔ دور سے دیکھنے پر ایسا لگ رہا تھا کہ دونوں ایک ہی ہیں۔
بکنگھم نہر ۱۹ویں صدی میں تعمیر کی گئی تھی، جو دو دیگر ندیوں – کوسس تلیار اور ارنیار کے ساتھ اینّور سے ہوکر بہتی ہے، اور یہ تینوں پانی کا ایک ایسا نظام بناتی ہیں جو چنئی شہر کے لیے لائف لائن (زندگی کی شہ رگ) ہے۔

















