رکھمنی شنگٹے گنّے کی کٹائی کرنے والی ایک دبلی پتلی خاتون ہیں، جن کی عمر ۴۰ کی دہائی کے وسط میں ہے۔ وہ گنے کے ڈنٹھلوں سے بنی تنگ دیوار والی جھونپٹری کو اپنا گھر کہتی ہیں۔ وہ اپنے گھر میں دوہری ہوکر داخل ہوتی ہیں۔ نومبر میں اپنے گاؤں سے نکلنے کے بعد یہی ان کی چار رکنی فیملی کا مسکن ہے۔ وسطی مہاراشٹر کے احمد نگر ضلع میں مُولا شوگر کوآپریٹو کے باہر گنّے کی کٹائی کرنے والوں کی اس کالونی میں دیگر ہزاروں گھروں کی طرح، ان کی جھونپڑی میں بھی کپڑے رکھنے کے لیے ایک ٹوٹا پھوٹا ٹن کا باکس ہے اور گھسے پٹے برتنوں کا ایک ڈھیر ہے۔
پانچ سو کلومیٹر سے بھی زیادہ دور، جنوبی گجرات کے باردولی کوآپریٹو، جو ریاست کے سب سے بڑے اور ابتدائی شوگر کوآپریٹو میں سے ایک ہے، کے باہر ایک ہزار سے زیادہ گنا کٹائی کرنے والوں کی خستہ حال فوج، فیکٹریوں کو گنے کی مسلسل سپلائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ مزدوروں کی یہ فوج چند ہفتوں میں ایک کھیت سے دوسرے کھیت میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔
کویٹا کے لغوی معنی ’درانتی‘ کے ہوتے ہیں، لیکن یہاں فیکٹری والے گنا کٹائی کرنے والوں کو کویٹا کہتے ہیں۔ یہ کویٹا مہاراشٹر کے نندربار اور ناسک سے لے کر پونے اور جلگاؤں ضلعوں کے دیہی علاقوں کےغریب لوگ ہوتے ہیں۔
ہر سال جب مانسون واپسی کے سفر پر ہوتا ہے، تو وسطی مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ خطے کے دیہی علاقوں کے غریبوں میں سے تقریباً پانچ لاکھ لوگ سخت حالات میں کام کی تلاش میں سفر پر نکلتے ہیں۔ اس سفر کا اختتام ہندوستان کے سب سے بڑے چینی پیدا کرنے والے علاقے میں ہوتا ہے۔
گنے کے کھیتوں کا یہ عظیم پھیلاؤ جنوبی گجرات کے ہیروں کی صنعت کے شہر سورت سے شروع ہوکر مغربی مہاراشٹر کے خوشحال علاقے سے ہوتا ہوا شمالی کرناٹک کے بیلگام تک چلا جاتا ہے۔ فصل کی کٹائی کا موسم عام طور پر نومبر سے اپریل تک رہتا ہے، لیکن اس سال جیسے اچھے موسموں میں مئی تک جاری رہتا ہے۔ گنا کٹائی کرنے والوں نے اس سال ۸۱ لاکھ ٹن کی کٹائی کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔
مزدوروں کی سالانہ مہاجرت چار دہائیوں سے بھی کچھ زیادہ پرانی ہے۔ اس کے راستے طے شدہ ہیں۔ تین ریاستوں کے وسیع خطے میں پھیلے ۲۰۰ سے زیادہ شوگر کوآپریٹو فیکٹریوں کے آجروں اور ان کے بے زمین یا بے روزگار کسانوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ لیکن گنے کا منافع بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ شوگر کوآپریٹو فیکٹریز فیڈریشن (ایم ایس ایس سی ایف ایف) کے منیجنگ ڈائریکٹر پرکاش نائک نوَرے کے اندازے کے مطابق اس سال کا منافع ۱۵۰۰۰ کروڑ روپے رہا۔ منافع تو بڑھ رہا ہے لیکن مہاجر مزدوروں کی حالت خستہ کی خستہ ہے۔
مہاراشٹر کی دو تہائی چینی فیکٹریاں ریاست کے چند سرکردہ اور امیر ترین سیاست دانوں کے ہاتھوں میں ہیں، جن میں کانگریس پارٹی کے وزیر اعلیٰ ولاس راؤ دیشمکھ اور حزب اختلاف کے لیڈر، بھارتیہ جنتا پارٹی کے گوپی ناتھ منڈے شامل ہیں۔ کویٹا کا تعلق عموماً مہاراشٹر کی تاریخی طور پر پسماندہ ذاتوں اور قبائلوں سے ہوتا ہے۔ جو تھوڑی بہت ذیلی زمین ان کے پاس ہے وہاں سینچائی کی سہولت بہت کم ہے، جس کی وجہ سے وہ بارش پر مبنی زرعی موسم کے اختتام پر اپنا گاؤں چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس ان کی منزل پانی سے بھرپور گنے کی فصل کا سرسبز و شاداب علاقہ ہوتا ہے، جہاں باندھوں کے ایک بڑے نیٹ ورک کے ذریعے پانی پہنچایا جاتا ہے۔
ریکارڈ فصلوں کے موسم اور مسابقتی اقتصادی ترقی کے دور میں مہاراشٹر کی ان ۱۷۲ فیکٹریوں کو کچا مال سپلائی کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے کام کرنے والے مزدوروں کا ایک بڑا فائدہ ہے۔ ’’اتر پردیش جیسی دوسری ریاستوں کے برعکس یہاں کاشت کار گنے کو نہیں کاٹتے ہیں، بلکہ گنا کاٹنے والے مزدور کاٹتے ہیں، جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ گنا فیکٹری تک پہنچ جائے اور ۲۴ گھنٹوں کے اندر اندر ان کا رس نکال لیا جائے،‘‘ نائکنوارے کہتے ہیں۔ ’’اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مہاراشٹر میں گنے سے چینی حاصل کرنے کی شرح ملک کے دوسرے علاقوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہاں ۱۰ فیصد کے قومی اوسط کے برعکس ۵ء۱۱ فیصد چینی حاصل ہوتی ہے۔‘‘



