اب سے کچھ ہی دیر میں، اکیلے احمد آباد سے یہ ہزاروں کی تعداد میں پرواز کرنے کو تیار ہیں۔ یہ نظارہ کسی بھی جانی پہچانی ہوائی قلا بازی کے مقابلے زیادہ رنگین اور شاندار ہونے والا ہے۔ ان کے پائلٹ اور مالک، دونوں ہی زمین پر ہوتے ہیں۔ انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ جس چیز کو اڑا رہے ہیں، ان میں سے ہر ایک کو زمین پر موجود آٹھ لوگوں کے عملہ نے تیار کیا ہے، جو اس صنعت کو زندہ رکھنے کے لیے تقریباً سال بھر کام کرتے ہیں۔ عملہ میں زیادہ تر عورتیں ہوتی ہیں، جن میں سے اکثر دیہات اور چھوٹے قصبوں میں رہتی ہیں، جنہیں اس پیچیدہ، نازک لیکن محنت بھرے کام کے بدلے معمولی پیسے ملتے ہیں، اور خود اپنی زندگی میں کبھی اونچی پرواز نہیں کرسکتیں۔
آج مکر سنکرانتی ہے۔ ہندوؤں کے اس تہوار کے موقع پر شہر میں جتنی بھی رنگ برنگی پتنگیں اڑائی جائیں گی، انہیں اسی احمد آباد میں اور گجرات کے آنند ضلع کے کھمبھات تعلقہ کی مسلم اور ہندو چونار برادریوں کی عورتوں نے بنایا ہے۔ انہیں اڑانے والے، ظاہر ہے، زیادہ تر ہندو ہوں گے۔
ان پتنگوں کو بنانے کے لیے یہ عورتیں سال کے ۱۰ مہینے تک کام کرتی ہیں، جس کی انہیں بہت معمولی اجرت ملتی ہے۔ خاص کر وہ ان رنگ برنگی پتنگوں پر کام کرتی ہیں جنہیں ۱۴ جنوری کو آسمان میں اڑایا جاتا ہے۔ گجرات میں ۶۲۵ کروڑ روپے کی اس صنعت نے ایک لاکھ ۲۸ ہزار لوگوں کو روزگار دیا ہے، اور ہر ۱۰ کاریگروں میں سے ۷ عورتیں ہی ہیں۔
۴۰ سال کے سبین عباس نیاز حسین ملک بتاتے ہیں، ’’تیار ہونے سے پہلے ہر ایک پتنگ کو سات لوگوں کے ہاتھوں سے ہوکر گزرنا پڑتاہے۔ ہم لوگ کھمبھات کے لال محل علاقے کی ایک چھوٹی گلی میں واقع ان کے ۱۲ بائی ۱۰ فٹ کے گھر و دکان میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اور وہ بھیجنے کے لیے پوری طرح بن کر تیار چاندی کے چمکدار کاغذ میں لپٹی ہوئی پتنگوں کے پیکٹ کے پاس بیٹھے ہوئے، ظاہری طور پر اس خوبصورت صنعت کے بارے میں ہمیں بتا رہے ہیں، جس کے متعلق لوگوں کو کم معلوم ہے۔


















