سال ۱۹۷۰ دادو سالوے کی زندگی کا ایک فیصلہ کن سال تھا۔ اسی وقت ان کی ملاقات گلوکار وامن دادا کرڈک سے ہوئی، جو ڈاکٹر امبیڈکر کی سماجی، ثقافتی اور سیاسی تحریک کو مہاراشٹر کے دور افتادہ علاقوں تک لے جانے کا کام کر رہے تھے۔ یہ کام انہوں نے اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک کیا۔
مادھوراؤ گائکواڑ (۷۵) وامن راؤ کرڈک کی زندگی سے جڑے سامانوں کو جمع کرنے کا کام کرتے ہیں۔ دادو سالوے کو وامن دادا سے ملانے کا کریڈٹ بھی انھیں کو ہے۔ مادھو راؤ اور ان کی ۶۱ سالہ بیوی سمترا نے ۵۰۰۰ سے بھی زیادہ گیتوں کو جمع کیا ہے، جنہیں وامن دادا نے خود اپنے ہاتھوں سے لکھا تھا۔
مادھو راؤ کہتے ہیں، ’’وہ ۱۹۷۰ میں نگر آئے۔ وہ ایک ’گائن پارٹی‘ کی شروعات کرنا چاہتے تھے، تاکہ امبیڈکر کے کاموں اور پیغامات کو دور دور تک پہنچایا جا سکے۔ دادو سالوے، امبیڈکر کے بارے میں گاتے ضرور تھے، لیکن ان کے پاس بہت اچھے گیتوں کی کمی تھی۔ اس لیے، ہم وامن دادا کے پاس گئے اور ان سے کہا، ’ہمیں آپ کے گیتوں کی ضرورت ہے‘۔‘‘
ان کی درخواست کا جواب دیتے ہوئے وامن دادا نے کہا کہ ان کا لکھا کچھ بھی ان کے پاس منظم شکل میں نہیں ہے۔ ’’میں گیت لکھتا ہوں، ان کو گاتا ہوں اور پھر انہیں وہیں چھوڑ دیتا ہوں۔‘‘
مادھو راؤ یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’اتنے بیش قیمتی خزانے کو اس طرح برباد ہوتے دیکھنا ہمارے لیے تکلیف کی بات تھی۔ انہوں نے (وامن دادا نے) اپنی پوری زندگی امبیڈکر نواز تحریک کے نام وقف کر دی تھی۔‘‘
ان کی تخلیقات کو جمع کرنے کے مقصد سے مادھو راو، وامن دادا کے ہر پروگرام میں دادو سالوے کو اپنے ساتھ لے جانے لگے۔ ’’دادو ان کے ساتھ ہارمونیم پر ساتھ دیتے تھے اور میں ان کے گائے گیتوں کو لکھتا جاتا تھا۔ وہ کام چل رہے پروگرام کے درمیان ہوتا تھا۔‘‘
اس طرح وہ ۵۰۰۰ سے بھی زیادہ گیتوں کو جمع کر شائع کر پانے میں کامیاب ہوئے۔ لیکن اس کوشش کے بعد بھی کم از کم ۳۰۰۰ گیتوں کو ابھی بھی دن کی روشنی نصیب نہیں ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں اپنی مالی مجبوریوں کے سبب اس کام کو کرنے میں ناکام رہا، لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ میں نے صرف دادو سالوے کے سبب امبیڈکر نواز تحریک کے اس علم اور خیالات کو محفوظ رکھنے میں کامیابی حاصل کی۔‘‘
دادو سالوے، وامن دادا کی تخلیقات سے اتنے متاثر تھے کہ ان سے ترغیب لے کر انہوں نے ’کلا پتھک‘ نام سے ایک نئی سنگیت منڈلی شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے شنکر تباجی تائکواڑ، سنجے ناتھ جادھو، رگھو گنگا رام سالوے اور ملند شندے کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا کام کیا۔ یہ گروپ بھیم سندیش گیان پارٹی کے نام سے پہچانا جانے لگا، اور جس کا مقصد امبیڈکر کے پیغامات کو پھیلانا تھا۔
وہ اس مہم کے لیے گاتے تھے، اس لیے ان کی پیشکش میں کوئی دکھاوا اور کسی کے خلاف کوئی منفی منشا پوشیدہ نہیں ہوتی تھی۔
دادو ہمیں یہ گیت گا کر سناتے ہیں: