ایس راماسامی نے مجھے اپنے پرانے دوست سے ملوایا۔ وہ بتاتے ہیں کہ اخبارات سے لے کر ٹی وی چینلوں تک اور آئی اے ایس سے لے کر آئی پی ایس افسران تک، نہ جانے کتنے لوگ ان کے اس پیارے دوست سے ملنے کے لیے بے قرار رہتے ہیں۔ وہ معمولی سے معمولی تفصیل بتانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ظاہر ہے، وہ ایک سیلیبرٹی، ایک وی آئی پی کے بارے میں جو بات کر رہے ہیں۔
ان کا یہ دوست ایک ۲۰۰ سال پرانا درخت ہے: مالیگم پٹّو کا آئیرم کاچی۔
آئیرم کاچی ایک پلامرم، یعنی کٹہل کا درخت ہے، جو کہ لمبا چوڑا اور کافی پھل دیتا ہے۔ یہ اتنا چوڑا کہ اس کے چاروں طرف ایک چکر لگانے میں ۲۵ سیکنڈ لگتے ہیں۔ اس کی پرانی شاخوں کے قریب سبز رنگ کے سو سے زیادہ کانٹے دار پھل لٹک رہے ہیں۔ اس کے سامنے کھڑے ہونا اعزاز کی بات ہے، اور درخت کے چکر لگانا کسی خوش قسمتی سے کم نہیں ہے۔ میرا ردعمل دیکھ کر راما سامی مسکرانے لگتے ہیں؛ اس خوشی کی وجہ سے آنکھوں تک لمبی ان کی مونچھیں تن جاتی ہیں۔ اپنی ۷۱ سالہ زندگی میں انہوں نے بے شمار لوگوں کو اس درخت سے متاثر ہوتے دیکھا ہے۔ وہ مجھے بتانے لگتے ہیں…
کھاوی (گیروے رونگ کی) دھوتی پہنے اور پتلے کندھے پر تولیہ ڈالے، وہ درخت کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں، ’’ہم لوگ کڈلور ضلع کے پنروتی بلاک کی مالیگم پٹو بستی میں ہیں۔ اس درخت کو پانچ نسل قبل، ہمارے اسلاف نے لگایا تھا۔ ہم اسے ’آئیرم کاچی‘ کہتے ہیں، یعنی ۱۰۰۰ پھل دینے والا۔ لیکن، اب اس کے اوپر سال میں صرف ۲۰۰ سے ۳۰۰ پھل ہی آتے ہیں، جو ۸ سے ۱۰ دنوں کے اندر پک جاتے ہیں۔ اس کا کوآ مزیدار اور رنگ خوبصورت ہوتا ہے۔ کچے کٹہل کی بریانی بھی پکائی جا سکتی ہے۔‘‘ اور آدھا منٹ کے اندر انہوں نے اس کی ساری خوبیاں بیان کر دیں۔ اس درخت کی طرح ہی اس سے جڑے قصے بھی وقت کے ساتھ گزری کئی دہائیوں کی دین ہیں، جسے وہ لوگوں کو لگاتار سناتے رہتے ہیں۔


















