ایک کتبہ پر درج ہے، ’’كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ‘‘ یعنی، ہر ذی نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ نئی دہلی کے سب سے بڑے مدفن، جدید قبرستان اہل اسلام کی زیادہ تر قبروں پر یہی الفاظ کندہ ہیں۔ یہ دراصل قرآن کی ایک آیت ہے، جو مسلمانوں کے اس قبرستان کی خاموش اور غمگین فضا کو مزید سوگوار بناتی ہے۔ اسی درمیان وہاں ایمبولینس سے ایک اور شخص کی لاش پہنچتی ہے، جس کے عزیز و اقارب اس کی نمازِ جنازہ ادا کرتے ہیں۔ جلد ہی وہ گاڑی خالی ہو جاتی ہے اور قبرستان میں ایک اور قبر کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ پھر مشین سے قبر پر مٹی ڈالی جاتی ہے۔
نئی دہلی کے بہادر شاہ ظفر مارگ پر، میڈیا ہاؤسز کی عمارتوں سے متصل اس قبرستان کے ایک کونے میں، ۶۲ سالہ نظام اختر بیٹھے ہوئے ہیں اور کتبوں پر – جنہیں وہ ’محراب‘ کہتے ہیں – مرنے والے کا نام لکھ رہے ہیں۔ اپنی انگلیوں کے درمیان پرکزہ (خطاطی کا برش) پوری نزاکت سے پکڑے ہوئے، وہ اردو کے چند حروف پر نقطہ لگا رہے ہیں۔ ابھی وہ کووڈ۔۱۹ کی وجہ سے ہلاک ہونے والی ایک خاتون، ’دُردانہ‘ کا نام لکھ رہے ہیں۔
نظام دراصل، کتبوں پر خطاطی کے خوبصورت اور پیچیدہ انداز میں ناموں کے ساتھ ساتھ ان سے وابستہ دیگر متن کو پینٹ کر رہے ہیں۔ بعد میں ان کا ایک ساتھی ہتھوڑی اور چھینی کی مدد سے ان کے ذریعے تحریر کردہ متن کو نمایاں کرنے کے لیے اس پر کندہ کاری کرے گا – ایسا کرتے وقت وہ پینٹ غائب ہو جاتا ہے۔
بطور کاتب یا خطاط، نظام گزشتہ ۴۰ برسوں سے بھی زیادہ عرصے سے قبروں کے کتبے لکھ رہے ہیں۔ ’’مجھے یاد نہیں کہ میں نے کتنے کتبوں پر کام کیا ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’اس سال اپریل اور مئی میں، میں نے تقریباً ۱۵۰ لوگوں کے نام لکھے جن کی موت کووڈ کی وجہ سے ہوئی تھی، اور اتنی ہی تعداد میں ان لوگوں کے نام لکھے جن کا فطری طور پر انتقال ہوا تھا۔ میں روزانہ، تقریباً تین سے پانچ کتبے تحریر کرتا ہوں۔ پتھر کے ایک جانب لکھنے میں تقریباً ایک گھنٹہ لگتا ہے،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ یہ تحریر اردو میں ہوتی ہے، جب کہ دوسری جانب عام طور سے انگریزی میں متوفی کا صرف نام لکھا جاتا ہے۔ ’’یہ سیکنڈوں میں صفحہ کو پُر کرنے جیسا نہیں ہے،‘‘ ان کی باتوں کو اپنی کاپی میں نوٹ کرتے ہوئے دیکھ کر، مجھ پر ہلکا سا طنز کرتے ہوئے وہ مسکراتے ہیں۔













