کووڈ۔۱۹ ٹیسٹ میں پازیٹو پائے جانے کے آٹھ دن بعد، رام لنگ سناپ کا جس اسپتال میں علاج چل رہا تھا، وہاں اُن کا انتقال ہو گیا۔ لیکن ان کی موت وائرس سے نہیں ہوئی تھی۔
انتقال سے چند گھنٹے قبل، ۴۰ سالہ رام لنگ نے اسپتال سے اپنی بیوی، راجو بائی کو فون کیا تھا۔ ’’انہیں جب اپنے علاج پر آنے والے خرچ کا پتہ چلا، تو وہ رونے لگے،‘‘ ان کے ۲۳ سالہ بھتیجے، روی مورالے بتاتے ہیں۔ ’’انہوں نے سوچا کہ اسپتال کا بل ادا کرنے کے لیے انہیں اپنا دو ایکڑ کھیت بیچنا پڑے گا۔‘‘
راجو بائی کے بھائی، پرمود مورالے کہتے ہیں کہ رام لنگ کو مہاراشٹر کے بیڈ شہر کے دیپ اسپتال میں ۱۳ مئی کو داخل کرایا گیا تھا۔ ان کے علاج کے لیے اسپتال نے ایک لاکھ ۶۰ ہزار روپے کا بل بنایا۔ ’’ہم نے کسی طرح دو قسطوں میں پیسے ادا کر دیے، لیکن اسپتال دو لاکھ روپے مزید مانگنے لگا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’انہوں نے فیملی کو بتانے کی بجائے مریض سے مطالبہ کرنا شروع کر دیا۔ ان پر بوجھ ڈالنے کی ضرورت کیا تھی؟‘‘
اسپتال کا یہ بل جو فیملی کی سالانہ آمدنی کا تقریباً دو گُنا تھا، اس کا خیال رام لنگ پر بھاری پڑا۔ ۲۱ مئی کو بھیڑ بھاڑ کے وقت، وہ کووڈ وارڈ سے باہر نکلے اور اسپتال کے گلیارے میں خود کو پھانسی لگا لی۔
۲۰ مئی کی رات کو جب انہوں نے اپنی بیوی، ۳۵ سالہ راجو بائی کو فون کیا تھا، تو انہوں نے اپنے پریشان شوہر کو دلاسہ دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے ان سے کہا تھا کہ وہ وہ اپنی موٹر سائیکل فروخت کر سکتے ہیں یا مغربی مہاراشٹر کی چینی کی ایک فیکٹری سے پیسے قرض لے سکتے ہیں، جہاں دونوں پہلے کام کرتے تھے۔ وہ چاہتی تھیں کہ رام لنگ جلد از جلد صحت یاب ہو جائیں، لیکن شاید انہیں پیسے چُکانے کو لیکر یقین نہیں تھا۔
رام لنگ اور راجو بائی ہر سال بیڈ ضلع کے کائج تعلقہ میں واقع اپنی بستی سے ہجرت کرکے مغربی مہاراشٹر کے گنّے کے کھیتوں پر کام کرنے جایا کرتے تھے۔ نومبر سے اپریل تک سخت محنت کرنے کے بعد، وہ ۱۸۰ دنوں میں ایک ساتھ تقریباً ۶۰ ہزار روپے کماتے تھے۔ اُن کی غیر موجودگی میں، ۸ سال سے ۱۶ سال کی عمر کے اُن کے تین بچے رام لنگ کے والد کی نگرانی میں رہتے تھے۔ رام لنگ کی والدہ کا انتقال ہو چکا ہے۔











