حکومت ہند نے ۱۹۵۲ میں اس قانون کو منسوخ کر دیا، اور آدیواسیوں کو ’ڈی نوٹیفائی‘ کر دیا گیا۔ اُن میں سے کچھ اب درج فہرست ذات کی فہرست میں شامل ہیں، کچھ درج فہرست قبائل کے طور پر، اور کچھ دیگر پس ماندہ طبقہ کے زمرے میں۔
مردم شماری ۲۰۱۱ کے مطابق، تقریباً ۲۲۳۵۲۷ پاردھی مہاراشٹر میں رہتے ہیں، اور کچھ چھتیس گڑھ، گجرات، کرناٹک اور مدھیہ پردیش میں بھی ہیں۔ پاردھیوں کے اندر مختلف ذیلی برادریاں ہیں، جنہیں بنیادی طور پر ان کے پیشوں یا دیگر تفصیلات کے مطابق نامزد کیا گیا جیسے کہ پال پاردھی (جو ٹینٹ میں رہتے تھے)، بھیل پاردھی (جو آتشیں اسلحوں کا استعمال کرتے تھے)، اور پھانسی پاردھی (جو پھندے کا استعمال کرکے شکار کرتے تھے)۔
نیشنل کمیشن فار ڈی نوٹیفائیڈ، نومیڈک اینڈ سیمی- نومیڈک ٹرائبس کے ذریعے درج فہرست ہندوستان کی تقریباً ۱۵۰۰ خانہ بدوش اور نیم خانہ بدوش برادریوں، اور ۱۹۸ ڈی نوٹیفائیڈ آدیواسیوں میں پاردھی تعلیم، روزگار اور دیگر سہولیات کے معاملے میں سب سے زیادہ پس ماندہ ہیں؛ انھیں ابھی بھی اکثر مجرم کے طور پر دیکھا جاتا اور بدنام کیا جاتا ہے۔
’’ہمیں اب بھی مجرم کہا جاتا ہے،‘‘ سنیتا کہتی ہیں۔ ’’گاؤں میں ہونے والے کسی بھی جرم کے لیے، پولس عام طور پر پاردھی کو ہی قصوروار ٹھہراتی ہے کیوں کہ وہ آسان شکار ہیں۔ جب کہ [پاردھیوں کے خلاف] سنگین مظالم ہوتے ہیں، جیسا آپ نے ابھی تک دیکھا۔ ہمارے خلاف یہ بدنامی ختم ہونی چاہیے۔‘‘
سنیتا کی پہچان پاردھیوں کے حقوق کی لڑائی لڑنے والی خاتون کے طور پر بن چکی ہے۔ لیکن یہ ان کے لیے ایک لمبا سفر رہا ہے۔
پونہ ضلع کے شیرور تعلقہ کے آمبلے گاؤں میں، اپنے ضلع پریشد اسکول میں انھیں بھی استحصال کا سامنا کرنا پڑا تھا، جہاں سے انھوں نے کلاس ۶ تک پڑھائی کی ہے۔ ’’اپنی برادری کی وجہ سے مجھے بہت چڑھایا جاتا تھا۔ مجھے حیرانی ہوتی کہ وہ میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟‘‘
سنیتا کے والد ایکناتھ، کبھی کبھی کھانے کے لیے چھپکلی، تیتر، خرگوش اور دیگر چھوٹے جانوروں کا شکار کرتے تھے۔ ان کی ماں شانتا بائی، اپنی بڑی بہن انیتا کے ساتھ کھانے کے لیے بھیک مانگتی تھیں؛ ان کا چھوٹا بھائی اویناش گھر پر ہی رہتا تھا۔ ’’ہم اکثر بھوکے رہتے تھے،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ ’’مجھے یاد ہے کہ اسکول میں ہمیں دودھ ملتا تھا۔ میں اسے پیٹ بھر کر پیتی، کیوں کہ کھانے کے لیے گھر پر کچھ نہیں ہوتا تھا۔ ہمارے ٹیچر ایک اچھے انسان تھے، میں جتنا مانگتی وہ مجھے اتنا دودھ دیتے تھے۔ وہ پاردھیوں کی حالت کو جانتے تھے۔ بھیک سے جمع کیا گیا کھانا چار ممبران کی فیملی کے لیے کافی نہیں ہوتا تھا۔ ہمیں بھاکھری شاید ہی کبھی دیکھنے کو ملتی تھی۔‘‘